Thursday, December 9, 2010

درود وسلام کے فضائل وبرکات

درود وسلام کے فضائل وبرکات
حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کسی مجلس میں بیٹھو تو بسم اﷲ الرحمن الرحیم اور صلی اﷲ علٰی محمد کہو تو اﷲ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کر دے گا جو تمہیں غیبت کرنے سے باز رکھے گا۔ :: قول البديع : 133،علامہ سخاوی
حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ شام کا ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک میرا باپ بوڑھا ہے لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کا مشتاق ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا کہ اپنے باپ کو میرے پاس لے آؤ آدمی نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نابینا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو کہو کہ وہ سات راتیں ’’صلی ا ﷲ علی محمد‘‘ (اللہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے) پڑھ کر سوئے بے شک (اس عمل کے بعد) وہ مجھے خواب میں دیکھ لے گا اور مجھ سے حدیث روایت کرے گا آدمی نے ایسا ہی کیا تو اس کو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ :: القول البديع : 133
حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ’’صلی ا ﷲ علی محمد‘‘ (اللہ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے) کہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لیے اپنی رحمت کے ستر دروازے کھول دیتا ہے۔ :: قول البديع : 133
حضرت خضر بن ابو عباس اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مؤمن بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے دل کو ترو تازہ اور منور کردیتا ہے۔ :: قول البديع : 132
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد حضرت سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کثرت ذکر اور مجھ پر درود بھیجنا فقر کو ختم کر دیتا ہے۔ :: قول البديع، 129
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جبرئیل سے پوچھا اﷲ کے ہاں محبوب ترین عمل کون سے ہیں؟ تو جبرئیل نے کہا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا۔ :: قول البديع، 129
حضرت علی علیہ السلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت والے دن تین اشخاص اﷲتعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے کہ جس دن اﷲتعالیٰ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ (تین اشخاص) کون ہیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک وہ شخص جس نے میری امت کے کسی مصیبت زدہ سے مصیبت کو دور کیا دوسرا وہ جس نے میری سنت کو زندہ کیا اور تیسرا وہ جس نے کثرت سے مجھ پر درود بھیجا۔:: قول البديع : 123
کثرتِ درود و سلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری کی حاضری نصیب کرتا ہے۔
زمین کے ٹکڑے بھی جن پر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے، اس شخص پر فخر کرتے ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا بندے اور جہنم کی آگ کے درمیان ڈھال بن جائے گا۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے تمام اہل عمل سے آخرت میں سبقت لے جائیں گے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے کی روح اعلیٰ مقامات پر فائز کی جاتی ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا تمام امور کی انجام دہی کو آسان بنا دیتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا تمام امور میں حائل مشکلات کو رفع کر دیتا ہے
درود و سلام کی مجالس فرشتوں کی مجالس اور جنت کے باغات ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دل کی مفلسی اور اس کے غموں کو دور کرتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ولایت کی طرف جانے والا راستہ ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ایسی عبادت ہے جو تمام اوقات اور احوال میں بلاشرط جائز ہے اس کے وقت کی کوئی پابندی نہیں یہ عبادت ہر وقت ادا ہے اس میں قضا نہیں ہے جبکہ دوسری تمام عبادات ایسی نہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا جنت کی شادابی عطا کرتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا بندے کے لئے دنیا، قبر اور یوم آخرت میں نور کا باعث بنتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے سے فرشتے کا درود بھیجنے والے کو اپنے پروں کے ساتھ گھیر لیتے ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا طبیعت اور مزاج سے وحشت کو ختم کر دیتا ہے۔
کسی عارف شخص سے روایت ہے کہ جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے اس سے ایک نہایت ہی پاکیزہ خوشبو پیدا ہوتی ہے جو آسمان کے کناروں تک پہنچ جاتی ہے (اس خوشبو کی وجہ سے) فرشتے کہتے ہیں یہ اس مجلس کی خوشبو ہے جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا گیا۔:: سعادة الدارين : 471،علامہ نبھانی

مختلف مقامات اور اوقات میں درود شریف کا حکم

مختلف مقامات اور اوقات میں درود شریف کا حکم
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہوگی پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد کیسے آپ کو پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاک میں مل چکے ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کرام علیھم السلام کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔:: سنن ابواداؤد،2 : 88
حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے اے اﷲ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔:: مسند،احمد بن حنبل،6 : 282، رقم : 26459
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر اپنی رضا کا اظہار فرماتے ہیں، ایک وہ جو دشمن سے ملے درانحالیکہ وہ اپنے ساتھیوں کے گھوڑے پرسوار ہو وہ تمام پسپا ہوجائیںمگر وہ ثابت قدم رہے، اگر قتل ہوگیا تو شہید اگر زندہ رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے دوسرا وہ شخص جو نصف رات کو اٹھتا ہے حالانکہ اس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد اور بزرگی بیان کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور قرآن شریف سے فتح طلب کرتا ہے یہ وہ شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے اور فرماتا ہے میرے بندے کو قیام کی حالت میں دیکھو کہ میرے سواء اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔:: نسائی شریف،6 : 217، رقم : 10703
حضرت وہب بن اجدع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا صفاء سے (سعی کی) ابتداء کرو اور پھر بیت اﷲ کی طرف منہ کرکے سات تکبیریں کہو ہر دو تکبیروں کے درمیان اﷲ کی حمد بیان کرو اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو اور پھر اﷲ سے اپنے حق میں دعا کرو اور مروہ کے مقام پر بھی ایسا ہی کرو۔:: ابن أبي شيبه،3 :
311، رقم : 14501پیرآف اوگالی شریف

درودشریف دافع رنج و بلا احادیث کی روشنی میں

درودشریف دافع رنج و بلا احادیث کی روشنی میں
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پانی کے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ گناہوں کو مٹانے والا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا یہ غلاموں کو آزاد کرنے سے بڑھ کر فضیلت والا کام ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت یہ جانوں کی روحوں سے بڑھ کر فضیلت والی ہے یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر فضیلت والی ہے۔:: کنزالعمال، 2 : 367، رقم : 3982
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا تو گھر سے باہر تشریف لے آتے اور فرماتے اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو اللہ کا ذکر کرو ہلا دینے والی(قیامت) آگئی۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی (آ گئی) موت اپنی سختی کے ساتھ آگئی موت اپنی سختی کے ساتھ آ گئی۔ میرے والد نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کثرت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردرود بھیجتا ہوں۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنا درود بھیجوں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جتنا تو بھیجنا چاہتا ہے میرے والد فرماتے ہیں میں نے عرض کیا (یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا میں اپنی دعا کا چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعاء بھیجنے کے لئے خاص کردوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) لیکن اگر تو اس میں اضافہ کرلے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگرمیں اپنی دعا کا آدھا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو اس میں اضافہ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگر میں اپنی دعا کا تین چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو زیادہ کردے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اگر میں ساری دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں تو؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو یہ درود تیرے تمام غموں کا مداوا ہوجائے گا اور تیرے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔:: ترمذی شریف،4 : 636
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر ہے جو مجھے وہ درود پہنچاتا ہے اور یہ درود اس درود بھیجنے والے کی دنیا وآخرت کے معاملات کے لئے کفیل ہوجاتا ہے اور (قیامت کے روز) میں اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا۔:: کنزالعمال، 1 : 498، رقم : 2197
حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی دعا کا تیسرا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) پھر اس نے عرض کیا دعا کا دو تہائی حصہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں پھر اس نے عرض کیا ساری کی ساری دعا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں) یہ سن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اللہ تعالیٰ تیرے دنیا اور آخرت کے معاملات کے لئے کافی ہو گا۔:: معجم الکبير، 4 : 35، رقم : 3574، طبرانی

پیرآف اوگالی شریف

اپنی مجالس کو درودشریف سے سجایا کرو فرمان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اپنی مجالس کو درودشریف سے سجایا کرو فرمان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ (اے لوگوں) تم اپنی مجالس کو حضور علیہ السلام پر درود بھیج کر اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے سجایا کرو۔:: کشف الخفاء، 1 : 536، رقم : 1443،عجلونی
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: مسند الفردوس، 2 : 291، رقم : 3330،ديلمی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (اے لوگو) مجھ پر درود بھیجنے کے ذریعے اپنی مجالس کو سجایا کرو بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے یا مجھے پہنچ جاتا ہے۔:: کشف الخفاء، 1 : 536، رقم : 1443،عجلونی
حضرت ابن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو پس بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے روز تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: فيض القدير، 4 : 69،مناوی

پیرآف اوگالی شریف

ذکر رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور درود شریف کا پڑھنا

ذکر رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور درود شریف کا پڑھنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی میرا ذکر کرتا ہے اسے چاہے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہوں۔:: احاديث المختارة، 4 : 395، رقم : 1567،مقدسی
’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس میرا ذکر ہو اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت اپنا معمول بنا لو۔:: تهذيب مستمر الاوهام، 1 : 178،ابونصر
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پا س میرا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ (ذکر سن کر) مجھ پر درود بھیجے اور جومجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے۔:: سنن نسائی، 6 : 21، رقم : 9889
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ جفا (بے وفائی) ہے کہ کسی شخص کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔:: مصنف، 2 : 217، رقم : 3121،عبدالرزاق

درود شریف پل صراط اور اجرو ثواب تحریر پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربار عالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ وسن ضلع خوشاب

درود شریف پل صراط اور اجرو ثواب
تحریر پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربار عالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ وسن ضلع خوشاب
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن ایک ایسے نور کے ساتھ آئے گا کہ وہ نور اگر تمام مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان کے لئے کفایت کر جائے گا۔:: حليةالاولياء، 8 : 47
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر بھیجا ہوا درود پل صراط پر نور بن جائے گا اور جو شخص مجھ پر جمعہ کے دن اسی (80) مرتبہ درود بھیجتاہے اس کے اسی (80) سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔:: مسند الفردوس، 2 : 408، رقم : 3814،ديلمی
حضرت عجلان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر بہت زیادہ نور ہوگا اور اس کے چہرے کے نور کو دیکھ کر لوگ(حیرت سے) کہیں گے کہ یہ شخص دنیا میں کونسا ایسا عمل کرتا تھا :: شعب الإيمان، 3 : 112، رقم : 3036
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود کے ذریعے سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: مسند الفردوس، 2 : 291، رقم : 3330
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص فریضۂ حج ادا کرتا ہے اور اس کے بعد کسی غزوۃ میں بھی شریک ہوتا ہے تو اس کے غزوہ میں شریک ہونے کا ثواب چار سو حج کے برابر لکھا جاتا ہے تو یہ خوشخبری سن کر ان لوگوں کا دل ٹوٹ گیا جو نہ تو جہاد اور نہ حج کرنے پر قدرت رکھتے تھے پس اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی فرمائی کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اس کا ثواب چار سو غزوات کے ثواب کے برابر لکھ دیتا ہوں اور ہر غزوۃ چار سو حج کے برابر ہے۔:: قول البديع : 126،امام سخاوی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ اپنی دعا میں یوں کہے؛؛’’اللهم صل علي محمد عبدک و رسولک وصل علي المؤمنين والمؤمنات و المسلمين والمسلمات؛؛’’اے اللہ تو اپنے رسول اور بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر رحمتیں نازل فرمایہی اس کا صدقہ ہو جائے گا :: مستدرک علي الصحيحين، 4 : 144، رقم : 7175،حاکم
حضرت عبداللہ بن جرار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فرائض حج ادا کرو بے شک اس کا اجر اللہ کی راہ میں لڑے جانے والے بیس غزوات سے بھی زیادہ ہے اور مجھ پر درود بھیجنے کا ثواب ان سب کے برابر ہے۔:: کنزالعمال، 1 : 505، رقم : 2231،
پیرآف اوگالی شریف
درودشریف اورحاجت کا پورا ہونا
تحریر پیر محمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربارعالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ سون ضلع خوشاب
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک دن میں مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (70) حاجتوں کا تعلق اس کی آخرت سے ہے اور تیس (30) کا اس کی دنیا سے۔
:: کنزالعمال، 1 : 505، رقم : 2232، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم

حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرما دیتا ہے۔
:: تهذيب الکمال، 5 : 84

حضرت انس رضی اللہ عنہ جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے خدمت گار تھے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز تمام دنیا میں سے تم میںسب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا میں تم میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہوگا پس جو شخص جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (70) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (30) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جو اس درود کو میری قبر میں اس طرح مجھ پر پیش کرتا ہے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں اور وہ مجھے اس آدمی کا نام اور اس کا نسب بمعہ قبیلہ بتاتا ہے، پھر میں اس کے نام و نسب کو اپنے پاس سفید کاغذ میں محفوظ کرلیتا ہوں۔
:: بيهقي، شعب الايمان، 3 : 111، رقم : 3035

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن اور رات مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرماتا ہے۔ ان میں سے ستر (70) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (30) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں اور پھر ایک فرشتہ کو اس کام کے لئے مقرر فرما دیتا ہے کہ وہ اس درود کو میری قبر میں پیش کرے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں بے شک موت کے بعد میرا علم ویسا ہی ہے جیسے زندگی میں میرا علم تھا۔
:: کنزالعمال، 1 : 507، رقم : 2242

پیرآف اوگالی شریف