درود وسلام کے فضائل وبرکات
حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کسی مجلس میں بیٹھو تو بسم اﷲ الرحمن الرحیم اور صلی اﷲ علٰی محمد کہو تو اﷲ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کر دے گا جو تمہیں غیبت کرنے سے باز رکھے گا۔ :: قول البديع : 133،علامہ سخاوی
حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ شام کا ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک میرا باپ بوڑھا ہے لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کا مشتاق ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا کہ اپنے باپ کو میرے پاس لے آؤ آدمی نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نابینا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو کہو کہ وہ سات راتیں ’’صلی ا ﷲ علی محمد‘‘ (اللہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے) پڑھ کر سوئے بے شک (اس عمل کے بعد) وہ مجھے خواب میں دیکھ لے گا اور مجھ سے حدیث روایت کرے گا آدمی نے ایسا ہی کیا تو اس کو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ :: القول البديع : 133
حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ’’صلی ا ﷲ علی محمد‘‘ (اللہ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے) کہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لیے اپنی رحمت کے ستر دروازے کھول دیتا ہے۔ :: قول البديع : 133
حضرت خضر بن ابو عباس اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مؤمن بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے دل کو ترو تازہ اور منور کردیتا ہے۔ :: قول البديع : 132
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد حضرت سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کثرت ذکر اور مجھ پر درود بھیجنا فقر کو ختم کر دیتا ہے۔ :: قول البديع، 129
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جبرئیل سے پوچھا اﷲ کے ہاں محبوب ترین عمل کون سے ہیں؟ تو جبرئیل نے کہا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا۔ :: قول البديع، 129
حضرت علی علیہ السلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت والے دن تین اشخاص اﷲتعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے کہ جس دن اﷲتعالیٰ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ (تین اشخاص) کون ہیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک وہ شخص جس نے میری امت کے کسی مصیبت زدہ سے مصیبت کو دور کیا دوسرا وہ جس نے میری سنت کو زندہ کیا اور تیسرا وہ جس نے کثرت سے مجھ پر درود بھیجا۔:: قول البديع : 123
کثرتِ درود و سلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری کی حاضری نصیب کرتا ہے۔
زمین کے ٹکڑے بھی جن پر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے، اس شخص پر فخر کرتے ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا بندے اور جہنم کی آگ کے درمیان ڈھال بن جائے گا۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے تمام اہل عمل سے آخرت میں سبقت لے جائیں گے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے کی روح اعلیٰ مقامات پر فائز کی جاتی ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا تمام امور کی انجام دہی کو آسان بنا دیتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا تمام امور میں حائل مشکلات کو رفع کر دیتا ہے
درود و سلام کی مجالس فرشتوں کی مجالس اور جنت کے باغات ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دل کی مفلسی اور اس کے غموں کو دور کرتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ولایت کی طرف جانے والا راستہ ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ایسی عبادت ہے جو تمام اوقات اور احوال میں بلاشرط جائز ہے اس کے وقت کی کوئی پابندی نہیں یہ عبادت ہر وقت ادا ہے اس میں قضا نہیں ہے جبکہ دوسری تمام عبادات ایسی نہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا جنت کی شادابی عطا کرتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا بندے کے لئے دنیا، قبر اور یوم آخرت میں نور کا باعث بنتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے سے فرشتے کا درود بھیجنے والے کو اپنے پروں کے ساتھ گھیر لیتے ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا طبیعت اور مزاج سے وحشت کو ختم کر دیتا ہے۔
کسی عارف شخص سے روایت ہے کہ جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے اس سے ایک نہایت ہی پاکیزہ خوشبو پیدا ہوتی ہے جو آسمان کے کناروں تک پہنچ جاتی ہے (اس خوشبو کی وجہ سے) فرشتے کہتے ہیں یہ اس مجلس کی خوشبو ہے جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا گیا۔:: سعادة الدارين : 471،علامہ نبھانی
Thursday, December 9, 2010
مختلف مقامات اور اوقات میں درود شریف کا حکم
مختلف مقامات اور اوقات میں درود شریف کا حکم
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہوگی پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد کیسے آپ کو پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاک میں مل چکے ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کرام علیھم السلام کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔:: سنن ابواداؤد،2 : 88
حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے اے اﷲ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔:: مسند،احمد بن حنبل،6 : 282، رقم : 26459
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر اپنی رضا کا اظہار فرماتے ہیں، ایک وہ جو دشمن سے ملے درانحالیکہ وہ اپنے ساتھیوں کے گھوڑے پرسوار ہو وہ تمام پسپا ہوجائیںمگر وہ ثابت قدم رہے، اگر قتل ہوگیا تو شہید اگر زندہ رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے دوسرا وہ شخص جو نصف رات کو اٹھتا ہے حالانکہ اس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد اور بزرگی بیان کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور قرآن شریف سے فتح طلب کرتا ہے یہ وہ شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے اور فرماتا ہے میرے بندے کو قیام کی حالت میں دیکھو کہ میرے سواء اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔:: نسائی شریف،6 : 217، رقم : 10703
حضرت وہب بن اجدع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا صفاء سے (سعی کی) ابتداء کرو اور پھر بیت اﷲ کی طرف منہ کرکے سات تکبیریں کہو ہر دو تکبیروں کے درمیان اﷲ کی حمد بیان کرو اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو اور پھر اﷲ سے اپنے حق میں دعا کرو اور مروہ کے مقام پر بھی ایسا ہی کرو۔:: ابن أبي شيبه،3 : 311، رقم : 14501پیرآف اوگالی شریف
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہوگی پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد کیسے آپ کو پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاک میں مل چکے ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کرام علیھم السلام کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔:: سنن ابواداؤد،2 : 88
حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے اے اﷲ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔:: مسند،احمد بن حنبل،6 : 282، رقم : 26459
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر اپنی رضا کا اظہار فرماتے ہیں، ایک وہ جو دشمن سے ملے درانحالیکہ وہ اپنے ساتھیوں کے گھوڑے پرسوار ہو وہ تمام پسپا ہوجائیںمگر وہ ثابت قدم رہے، اگر قتل ہوگیا تو شہید اگر زندہ رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے دوسرا وہ شخص جو نصف رات کو اٹھتا ہے حالانکہ اس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد اور بزرگی بیان کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور قرآن شریف سے فتح طلب کرتا ہے یہ وہ شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے اور فرماتا ہے میرے بندے کو قیام کی حالت میں دیکھو کہ میرے سواء اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔:: نسائی شریف،6 : 217، رقم : 10703
حضرت وہب بن اجدع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا صفاء سے (سعی کی) ابتداء کرو اور پھر بیت اﷲ کی طرف منہ کرکے سات تکبیریں کہو ہر دو تکبیروں کے درمیان اﷲ کی حمد بیان کرو اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو اور پھر اﷲ سے اپنے حق میں دعا کرو اور مروہ کے مقام پر بھی ایسا ہی کرو۔:: ابن أبي شيبه،3 : 311، رقم : 14501پیرآف اوگالی شریف
درودشریف دافع رنج و بلا احادیث کی روشنی میں
درودشریف دافع رنج و بلا احادیث کی روشنی میں
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پانی کے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ گناہوں کو مٹانے والا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا یہ غلاموں کو آزاد کرنے سے بڑھ کر فضیلت والا کام ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت یہ جانوں کی روحوں سے بڑھ کر فضیلت والی ہے یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر فضیلت والی ہے۔:: کنزالعمال، 2 : 367، رقم : 3982
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا تو گھر سے باہر تشریف لے آتے اور فرماتے اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو اللہ کا ذکر کرو ہلا دینے والی(قیامت) آگئی۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی (آ گئی) موت اپنی سختی کے ساتھ آگئی موت اپنی سختی کے ساتھ آ گئی۔ میرے والد نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کثرت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردرود بھیجتا ہوں۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنا درود بھیجوں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جتنا تو بھیجنا چاہتا ہے میرے والد فرماتے ہیں میں نے عرض کیا (یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا میں اپنی دعا کا چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعاء بھیجنے کے لئے خاص کردوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) لیکن اگر تو اس میں اضافہ کرلے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگرمیں اپنی دعا کا آدھا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو اس میں اضافہ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگر میں اپنی دعا کا تین چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو زیادہ کردے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اگر میں ساری دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں تو؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو یہ درود تیرے تمام غموں کا مداوا ہوجائے گا اور تیرے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔:: ترمذی شریف،4 : 636
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر ہے جو مجھے وہ درود پہنچاتا ہے اور یہ درود اس درود بھیجنے والے کی دنیا وآخرت کے معاملات کے لئے کفیل ہوجاتا ہے اور (قیامت کے روز) میں اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا۔:: کنزالعمال، 1 : 498، رقم : 2197
حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی دعا کا تیسرا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) پھر اس نے عرض کیا دعا کا دو تہائی حصہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں پھر اس نے عرض کیا ساری کی ساری دعا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں) یہ سن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اللہ تعالیٰ تیرے دنیا اور آخرت کے معاملات کے لئے کافی ہو گا۔:: معجم الکبير، 4 : 35، رقم : 3574، طبرانی
پیرآف اوگالی شریف
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پانی کے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ گناہوں کو مٹانے والا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا یہ غلاموں کو آزاد کرنے سے بڑھ کر فضیلت والا کام ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت یہ جانوں کی روحوں سے بڑھ کر فضیلت والی ہے یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر فضیلت والی ہے۔:: کنزالعمال، 2 : 367، رقم : 3982
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا تو گھر سے باہر تشریف لے آتے اور فرماتے اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو اللہ کا ذکر کرو ہلا دینے والی(قیامت) آگئی۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی (آ گئی) موت اپنی سختی کے ساتھ آگئی موت اپنی سختی کے ساتھ آ گئی۔ میرے والد نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کثرت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردرود بھیجتا ہوں۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنا درود بھیجوں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جتنا تو بھیجنا چاہتا ہے میرے والد فرماتے ہیں میں نے عرض کیا (یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا میں اپنی دعا کا چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعاء بھیجنے کے لئے خاص کردوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) لیکن اگر تو اس میں اضافہ کرلے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگرمیں اپنی دعا کا آدھا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو اس میں اضافہ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگر میں اپنی دعا کا تین چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو زیادہ کردے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اگر میں ساری دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں تو؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو یہ درود تیرے تمام غموں کا مداوا ہوجائے گا اور تیرے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔:: ترمذی شریف،4 : 636
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر ہے جو مجھے وہ درود پہنچاتا ہے اور یہ درود اس درود بھیجنے والے کی دنیا وآخرت کے معاملات کے لئے کفیل ہوجاتا ہے اور (قیامت کے روز) میں اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا۔:: کنزالعمال، 1 : 498، رقم : 2197
حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی دعا کا تیسرا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) پھر اس نے عرض کیا دعا کا دو تہائی حصہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں پھر اس نے عرض کیا ساری کی ساری دعا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں) یہ سن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اللہ تعالیٰ تیرے دنیا اور آخرت کے معاملات کے لئے کافی ہو گا۔:: معجم الکبير، 4 : 35، رقم : 3574، طبرانی
پیرآف اوگالی شریف
اپنی مجالس کو درودشریف سے سجایا کرو فرمان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اپنی مجالس کو درودشریف سے سجایا کرو فرمان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ (اے لوگوں) تم اپنی مجالس کو حضور علیہ السلام پر درود بھیج کر اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے سجایا کرو۔:: کشف الخفاء، 1 : 536، رقم : 1443،عجلونی
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: مسند الفردوس، 2 : 291، رقم : 3330،ديلمی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (اے لوگو) مجھ پر درود بھیجنے کے ذریعے اپنی مجالس کو سجایا کرو بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے یا مجھے پہنچ جاتا ہے۔:: کشف الخفاء، 1 : 536، رقم : 1443،عجلونی
حضرت ابن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو پس بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے روز تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: فيض القدير، 4 : 69،مناوی
پیرآف اوگالی شریف
حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ (اے لوگوں) تم اپنی مجالس کو حضور علیہ السلام پر درود بھیج کر اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے سجایا کرو۔:: کشف الخفاء، 1 : 536، رقم : 1443،عجلونی
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: مسند الفردوس، 2 : 291، رقم : 3330،ديلمی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (اے لوگو) مجھ پر درود بھیجنے کے ذریعے اپنی مجالس کو سجایا کرو بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے یا مجھے پہنچ جاتا ہے۔:: کشف الخفاء، 1 : 536، رقم : 1443،عجلونی
حضرت ابن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو پس بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے روز تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: فيض القدير، 4 : 69،مناوی
پیرآف اوگالی شریف
ذکر رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور درود شریف کا پڑھنا
ذکر رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور درود شریف کا پڑھنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی میرا ذکر کرتا ہے اسے چاہے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہوں۔:: احاديث المختارة، 4 : 395، رقم : 1567،مقدسی
’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس میرا ذکر ہو اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت اپنا معمول بنا لو۔:: تهذيب مستمر الاوهام، 1 : 178،ابونصر
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پا س میرا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ (ذکر سن کر) مجھ پر درود بھیجے اور جومجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے۔:: سنن نسائی، 6 : 21، رقم : 9889
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ جفا (بے وفائی) ہے کہ کسی شخص کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔:: مصنف، 2 : 217، رقم : 3121،عبدالرزاق
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی میرا ذکر کرتا ہے اسے چاہے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہوں۔:: احاديث المختارة، 4 : 395، رقم : 1567،مقدسی
’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس میرا ذکر ہو اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت اپنا معمول بنا لو۔:: تهذيب مستمر الاوهام، 1 : 178،ابونصر
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پا س میرا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ (ذکر سن کر) مجھ پر درود بھیجے اور جومجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے۔:: سنن نسائی، 6 : 21، رقم : 9889
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ جفا (بے وفائی) ہے کہ کسی شخص کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔:: مصنف، 2 : 217، رقم : 3121،عبدالرزاق
درود شریف پل صراط اور اجرو ثواب تحریر پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربار عالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ وسن ضلع خوشاب
درود شریف پل صراط اور اجرو ثواب
تحریر پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربار عالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ وسن ضلع خوشاب
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن ایک ایسے نور کے ساتھ آئے گا کہ وہ نور اگر تمام مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان کے لئے کفایت کر جائے گا۔:: حليةالاولياء، 8 : 47
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر بھیجا ہوا درود پل صراط پر نور بن جائے گا اور جو شخص مجھ پر جمعہ کے دن اسی (80) مرتبہ درود بھیجتاہے اس کے اسی (80) سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔:: مسند الفردوس، 2 : 408، رقم : 3814،ديلمی
حضرت عجلان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر بہت زیادہ نور ہوگا اور اس کے چہرے کے نور کو دیکھ کر لوگ(حیرت سے) کہیں گے کہ یہ شخص دنیا میں کونسا ایسا عمل کرتا تھا :: شعب الإيمان، 3 : 112، رقم : 3036
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود کے ذریعے سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: مسند الفردوس، 2 : 291، رقم : 3330
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص فریضۂ حج ادا کرتا ہے اور اس کے بعد کسی غزوۃ میں بھی شریک ہوتا ہے تو اس کے غزوہ میں شریک ہونے کا ثواب چار سو حج کے برابر لکھا جاتا ہے تو یہ خوشخبری سن کر ان لوگوں کا دل ٹوٹ گیا جو نہ تو جہاد اور نہ حج کرنے پر قدرت رکھتے تھے پس اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی فرمائی کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اس کا ثواب چار سو غزوات کے ثواب کے برابر لکھ دیتا ہوں اور ہر غزوۃ چار سو حج کے برابر ہے۔:: قول البديع : 126،امام سخاوی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ اپنی دعا میں یوں کہے؛؛’’اللهم صل علي محمد عبدک و رسولک وصل علي المؤمنين والمؤمنات و المسلمين والمسلمات؛؛’’اے اللہ تو اپنے رسول اور بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر رحمتیں نازل فرمایہی اس کا صدقہ ہو جائے گا :: مستدرک علي الصحيحين، 4 : 144، رقم : 7175،حاکم
حضرت عبداللہ بن جرار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فرائض حج ادا کرو بے شک اس کا اجر اللہ کی راہ میں لڑے جانے والے بیس غزوات سے بھی زیادہ ہے اور مجھ پر درود بھیجنے کا ثواب ان سب کے برابر ہے۔:: کنزالعمال، 1 : 505، رقم : 2231،پیرآف اوگالی شریف
تحریر پیرمحمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربار عالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ وسن ضلع خوشاب
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن ایک ایسے نور کے ساتھ آئے گا کہ وہ نور اگر تمام مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان کے لئے کفایت کر جائے گا۔:: حليةالاولياء، 8 : 47
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر بھیجا ہوا درود پل صراط پر نور بن جائے گا اور جو شخص مجھ پر جمعہ کے دن اسی (80) مرتبہ درود بھیجتاہے اس کے اسی (80) سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔:: مسند الفردوس، 2 : 408، رقم : 3814،ديلمی
حضرت عجلان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر بہت زیادہ نور ہوگا اور اس کے چہرے کے نور کو دیکھ کر لوگ(حیرت سے) کہیں گے کہ یہ شخص دنیا میں کونسا ایسا عمل کرتا تھا :: شعب الإيمان، 3 : 112، رقم : 3036
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود کے ذریعے سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔:: مسند الفردوس، 2 : 291، رقم : 3330
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص فریضۂ حج ادا کرتا ہے اور اس کے بعد کسی غزوۃ میں بھی شریک ہوتا ہے تو اس کے غزوہ میں شریک ہونے کا ثواب چار سو حج کے برابر لکھا جاتا ہے تو یہ خوشخبری سن کر ان لوگوں کا دل ٹوٹ گیا جو نہ تو جہاد اور نہ حج کرنے پر قدرت رکھتے تھے پس اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی فرمائی کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اس کا ثواب چار سو غزوات کے ثواب کے برابر لکھ دیتا ہوں اور ہر غزوۃ چار سو حج کے برابر ہے۔:: قول البديع : 126،امام سخاوی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ اپنی دعا میں یوں کہے؛؛’’اللهم صل علي محمد عبدک و رسولک وصل علي المؤمنين والمؤمنات و المسلمين والمسلمات؛؛’’اے اللہ تو اپنے رسول اور بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر رحمتیں نازل فرمایہی اس کا صدقہ ہو جائے گا :: مستدرک علي الصحيحين، 4 : 144، رقم : 7175،حاکم
حضرت عبداللہ بن جرار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فرائض حج ادا کرو بے شک اس کا اجر اللہ کی راہ میں لڑے جانے والے بیس غزوات سے بھی زیادہ ہے اور مجھ پر درود بھیجنے کا ثواب ان سب کے برابر ہے۔:: کنزالعمال، 1 : 505، رقم : 2231،پیرآف اوگالی شریف
درودشریف اورحاجت کا پورا ہونا
تحریر پیر محمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربارعالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ سون ضلع خوشاب
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک دن میں مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (70) حاجتوں کا تعلق اس کی آخرت سے ہے اور تیس (30) کا اس کی دنیا سے۔
:: کنزالعمال، 1 : 505، رقم : 2232، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرما دیتا ہے۔
:: تهذيب الکمال، 5 : 84
حضرت انس رضی اللہ عنہ جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے خدمت گار تھے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز تمام دنیا میں سے تم میںسب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا میں تم میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہوگا پس جو شخص جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (70) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (30) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جو اس درود کو میری قبر میں اس طرح مجھ پر پیش کرتا ہے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں اور وہ مجھے اس آدمی کا نام اور اس کا نسب بمعہ قبیلہ بتاتا ہے، پھر میں اس کے نام و نسب کو اپنے پاس سفید کاغذ میں محفوظ کرلیتا ہوں۔
:: بيهقي، شعب الايمان، 3 : 111، رقم : 3035
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن اور رات مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرماتا ہے۔ ان میں سے ستر (70) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (30) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں اور پھر ایک فرشتہ کو اس کام کے لئے مقرر فرما دیتا ہے کہ وہ اس درود کو میری قبر میں پیش کرے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں بے شک موت کے بعد میرا علم ویسا ہی ہے جیسے زندگی میں میرا علم تھا۔
:: کنزالعمال، 1 : 507، رقم : 2242
پیرآف اوگالی شریف
تحریر پیر محمدامیرسلطان ہاشمی قادری چشتی دربارعالیہ قادریہ چشتیہ اکبریہ اوگالی شریف وادئ سون ضلع خوشاب
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک دن میں مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (70) حاجتوں کا تعلق اس کی آخرت سے ہے اور تیس (30) کا اس کی دنیا سے۔
:: کنزالعمال، 1 : 505، رقم : 2232، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرما دیتا ہے۔
:: تهذيب الکمال، 5 : 84
حضرت انس رضی اللہ عنہ جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے خدمت گار تھے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز تمام دنیا میں سے تم میںسب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا میں تم میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہوگا پس جو شخص جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (70) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (30) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جو اس درود کو میری قبر میں اس طرح مجھ پر پیش کرتا ہے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں اور وہ مجھے اس آدمی کا نام اور اس کا نسب بمعہ قبیلہ بتاتا ہے، پھر میں اس کے نام و نسب کو اپنے پاس سفید کاغذ میں محفوظ کرلیتا ہوں۔
:: بيهقي، شعب الايمان، 3 : 111، رقم : 3035
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن اور رات مجھ پر سو (100) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (100) حاجتیں پوری فرماتا ہے۔ ان میں سے ستر (70) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (30) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں اور پھر ایک فرشتہ کو اس کام کے لئے مقرر فرما دیتا ہے کہ وہ اس درود کو میری قبر میں پیش کرے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں بے شک موت کے بعد میرا علم ویسا ہی ہے جیسے زندگی میں میرا علم تھا۔
:: کنزالعمال، 1 : 507، رقم : 2242
پیرآف اوگالی شریف
Saturday, November 20, 2010
دوست دشمن ہو گئے یا مصطفٰے
جنت میں ٹھکانہ
اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان جنت نشان ہے، ‘‘جس نے مجھ پر دن میں ایک ہزار مرتبہ درود پاک پڑھا، وہ مرے گا نہیں جب تک جنت میں اپنا ٹھکانہ نہ دیکھ لے۔‘‘ (الترغیب والترھیب، ج2، ص328 حدیث22
میت کو خواب میں دیکھنے کا عمل
میت کو خواب میں دیکھنے کا عمل
ایک عورت نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری بیٹی فوت ہو گئی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواب میں اس کے ساتھ ملاقات ہو جائے۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا۔ “نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل پڑھ اور ہر رکعت میں فاتحہ شریف کے بعد سورہ تکاثر ایک مرتبہ پڑھ کر لیٹ جا اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتی سو جا ! “
اس عورت نے ایسا ہی کیا جب سو گئی تو اس نے خواب میں اپنی لڑکی کو دیکھا کہ وہ عذاب میں مبتلا ہے۔ اسے گندھک کا لباس پہنا کر ہاتھوں میں آگ کی ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنا دی گئی ہیں۔
وہ گھبرا کر بیدار ہوئی اور خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا۔ آپ نے سن کر فرمایا، کچھ صدقہ کر ! شاید اللہ تعالٰی اس کو معاف کردے۔ زاں بعد حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک باغ جس میں ایک تخت بچھا ہوا ہے۔ اس پر ایک لڑکی بیٹھی ہوئی اور اس کے سر پر نورانی تاج ہے۔ اس نے دیکھ کر عرض کی، حضرت ! آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ خواجہ حسن نے فرمایا۔ نہیں۔
یہ سن کر لڑکی نے عرض کی حضرت ! جیسے میری والدہ نے بیان کیا تھا، اس طرح صرف میری حالت ہی نہیں بلکہ اس قبرستان میں ستر ہزار مُردہ تھا جن کو عذاب ہو رہا تھا۔ ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ہمارے قبرستان کے پاس سے ایک عاشق رسول گزرا اور اس نے درود شریف پڑھ کر ثواب ہمیں بخش دیا تو اللہ عزوجل نے اس دردو شریف کو قبول فرما کر ہم سب پر رحمت فرمائی اور عذاب سے نجات مل گئی اور سب کو یہ انعام و اکرام عطا فرمایا۔ جو آپ مجھ پر دیکھ رہے ہیں۔
(القول البدیع۔ ص 131 نزہتہ المجالس، ص 32۔ سعادۃ الدارین، ص 122)
ایک عورت نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری بیٹی فوت ہو گئی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواب میں اس کے ساتھ ملاقات ہو جائے۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا۔ “نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل پڑھ اور ہر رکعت میں فاتحہ شریف کے بعد سورہ تکاثر ایک مرتبہ پڑھ کر لیٹ جا اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتی سو جا ! “
اس عورت نے ایسا ہی کیا جب سو گئی تو اس نے خواب میں اپنی لڑکی کو دیکھا کہ وہ عذاب میں مبتلا ہے۔ اسے گندھک کا لباس پہنا کر ہاتھوں میں آگ کی ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنا دی گئی ہیں۔
وہ گھبرا کر بیدار ہوئی اور خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا۔ آپ نے سن کر فرمایا، کچھ صدقہ کر ! شاید اللہ تعالٰی اس کو معاف کردے۔ زاں بعد حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک باغ جس میں ایک تخت بچھا ہوا ہے۔ اس پر ایک لڑکی بیٹھی ہوئی اور اس کے سر پر نورانی تاج ہے۔ اس نے دیکھ کر عرض کی، حضرت ! آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ خواجہ حسن نے فرمایا۔ نہیں۔
یہ سن کر لڑکی نے عرض کی حضرت ! جیسے میری والدہ نے بیان کیا تھا، اس طرح صرف میری حالت ہی نہیں بلکہ اس قبرستان میں ستر ہزار مُردہ تھا جن کو عذاب ہو رہا تھا۔ ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ہمارے قبرستان کے پاس سے ایک عاشق رسول گزرا اور اس نے درود شریف پڑھ کر ثواب ہمیں بخش دیا تو اللہ عزوجل نے اس دردو شریف کو قبول فرما کر ہم سب پر رحمت فرمائی اور عذاب سے نجات مل گئی اور سب کو یہ انعام و اکرام عطا فرمایا۔ جو آپ مجھ پر دیکھ رہے ہیں۔
(القول البدیع۔ ص 131 نزہتہ المجالس، ص 32۔ سعادۃ الدارین، ص 122)
اونٹ بولا
اونٹ بولا
ایک شخص دربار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور دوسرے شخص کے خلاف دعوٰی کر دیا کہ اس نے میرا اونٹ چوری کر لیا ہے اور دو گواہ بھی لے آیا۔ ان دونوں نے گواہی بھی دے دی۔
تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا ارادہ فرمایا تو مدعی نے عرض کی۔ “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! آپ اونٹ کو حاضر کرنے کا حکم دیجئے۔ پھر اونٹ سے پوچھ لیجئے کہ اصل حقیقت کیا ہے ؟ میں اللہ کی رحمت سے اُمید رکھتا ہوں کہ وہ اونٹ کو بولنے کی قول عطا فرمائے گا۔“
چنانچہ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ اونٹ آیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ “اے اونٹ ! میں کون ہوں ؟ اور یہ ماجرا کیا ہے ؟“ اونٹ فصیح زبان سے بولا کہ، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول ہیں۔ یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! اس مالک کا ہاتھ نہ کاٹیں کیونکہ مُدعی گواہ منافق ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی عداوت اور دشمنی کی بناء پر میرے مالک کا ہاتھ کاٹنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کے مالک سے پوچھا۔ “وہ کون سا عمل ہے جس کی برکت سے اللہ تعالٰی نے تجھے اس مُصیبت سے بچا لیا ہے ؟“ عرض کیا۔ “سرکار ! میرے پاس کوئی بڑا عمل نہیں ہے، لیکن ایک عمل ہے وہ یہ کہ اٹھتا بیٹھتا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی پر دورد شریف پڑھتا رہتا ہوں۔“ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ “اس عمل پر قائم رہ۔ اللہ تعالٰی تجھے دوزخ سے یونہی بَری کردے گا جیسے تجھے ہاتھ کٹ جانے سے بَری کیا ہے۔“
(سعادۃ الدارین۔ ص 137)
“نزہتہ المجالس“ میں اتنا زیادہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا۔
“اے پیارے صحابی ! جب تُو پُل صراط پر گزرنے لگے گا تو تیرا چہرہ یوں چمکے گا جیسے چودھویں رات کا چاند چمکتا ہے۔“
(نزہتہ المجالس۔ ص 106۔ جلد 2)
ایک شخص دربار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور دوسرے شخص کے خلاف دعوٰی کر دیا کہ اس نے میرا اونٹ چوری کر لیا ہے اور دو گواہ بھی لے آیا۔ ان دونوں نے گواہی بھی دے دی۔
تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا ارادہ فرمایا تو مدعی نے عرض کی۔ “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! آپ اونٹ کو حاضر کرنے کا حکم دیجئے۔ پھر اونٹ سے پوچھ لیجئے کہ اصل حقیقت کیا ہے ؟ میں اللہ کی رحمت سے اُمید رکھتا ہوں کہ وہ اونٹ کو بولنے کی قول عطا فرمائے گا۔“
چنانچہ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ اونٹ آیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ “اے اونٹ ! میں کون ہوں ؟ اور یہ ماجرا کیا ہے ؟“ اونٹ فصیح زبان سے بولا کہ، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول ہیں۔ یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! اس مالک کا ہاتھ نہ کاٹیں کیونکہ مُدعی گواہ منافق ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی عداوت اور دشمنی کی بناء پر میرے مالک کا ہاتھ کاٹنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کے مالک سے پوچھا۔ “وہ کون سا عمل ہے جس کی برکت سے اللہ تعالٰی نے تجھے اس مُصیبت سے بچا لیا ہے ؟“ عرض کیا۔ “سرکار ! میرے پاس کوئی بڑا عمل نہیں ہے، لیکن ایک عمل ہے وہ یہ کہ اٹھتا بیٹھتا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی پر دورد شریف پڑھتا رہتا ہوں۔“ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ “اس عمل پر قائم رہ۔ اللہ تعالٰی تجھے دوزخ سے یونہی بَری کردے گا جیسے تجھے ہاتھ کٹ جانے سے بَری کیا ہے۔“
(سعادۃ الدارین۔ ص 137)
“نزہتہ المجالس“ میں اتنا زیادہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا۔
“اے پیارے صحابی ! جب تُو پُل صراط پر گزرنے لگے گا تو تیرا چہرہ یوں چمکے گا جیسے چودھویں رات کا چاند چمکتا ہے۔“
(نزہتہ المجالس۔ ص 106۔ جلد 2)
درود پاک تمام اعمال سے افضل ہے
درود پاک تمام اعمال سے افضل ہے
حضرت بحرالعرفان سیدنا عبدالعزیز دباغ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر درود پاک پڑھنا ہر ایک شخص کا قطعی طور پر قبول ہوتا ہے۔ آپ نے مذید فرمایا، اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر درود پاک تمام اعمال سے افضل ہے۔ اور یہ اُن ملائکہ کا ذکر ہے جو اطراف جنت میں رہتے ہیں۔ اور جب وہ حضور پرنور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی پر درود پاک پڑھتے ہیں تو اُس کی برکت سے جنت کُشادہ ہو جاتی ہے۔
(افضل الصلوات علٰی سیدالسادات)
حضرت بحرالعرفان سیدنا عبدالعزیز دباغ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر درود پاک پڑھنا ہر ایک شخص کا قطعی طور پر قبول ہوتا ہے۔ آپ نے مذید فرمایا، اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر درود پاک تمام اعمال سے افضل ہے۔ اور یہ اُن ملائکہ کا ذکر ہے جو اطراف جنت میں رہتے ہیں۔ اور جب وہ حضور پرنور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی پر درود پاک پڑھتے ہیں تو اُس کی برکت سے جنت کُشادہ ہو جاتی ہے۔
(افضل الصلوات علٰی سیدالسادات)
آقا مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کر درود شریف نہ پڑھنا کیسا
آقا مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کر درود شریف نہ پڑھنا کیسا
تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ۔ بخیل ہے وہ شخص جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اس نے مجھ پر درود شریف نہ پڑھا ہو۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مشکوۃ
شفاءالقلوب میں ہے ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس کیلئے جو قبر کھودی گئی اس میں ایک خوفناک کالا سانپ نظر آیا۔ لوگوں نے گھبرا کر وہ قبر بند کر دی اور دوسری قبر کھو دی وہاں بھی وہی خوفناک کالا سانپ موجود تھا بالآخر تیسری جگہ قبر کھو دی وہی کالا سانپ وہاں بھی موجود تھا آخرکار سانپ نے زبان سے پکار کر کہا تم جہاں بھی قبر کھودو گے مین وہاں پہنچوں گا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ قہر و غضب کیوں ہے؟سانپ بولا! یہ شخص جب سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سنتا تھا تو درود شریف پڑھنے سے بخل کرتا تھا۔اب میں اس بخیل کو سزا دیتا رہوں گا۔
لرزجاؤ اور کانپ اٹھو کہ اگر خدانخواستہ اس طرح کی عادت آپ میں پہلے موجود تھی تو گھبرا کر سچے دل سے توبہ کر لیجئے اور آئندہ کیلئے جب بھی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سنیں تو فورا درودشریف یعنی صلی اللہ علیہ وسلم ضرور پڑھنے کی عادت بنائیں۔
عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیا جا رہا ہو ی کوئی عالم صاحب اپنے بیان میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی لے رہا ہو تو اکثر لوگ درود شریف پڑھنے سے کوتاہی کرتے ہیں نیز اذان کے وقت بھی جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی آئے تو اپنے انگوٹھوں کو چوم کر آبکھوں پر لگائیں اور درود شریف پڑھیں ۔یہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میرے اس پیارے کی طرح کرے اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔(مقاصد حسنہ) نیزفرمایا کہ ہم قیامت کی صفوں میں اس کو تلاش کر کے اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو اشھد ان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر انگوٹھے چومے اور آنکھوں پر لگائے وہ وہ کبھی اندھا نہ ہو گا نہ کبھی اس کی آنکھیں دکھیں گی ۔(مقاصد حسنہ)
حضرت شیخ نور الدین خرسانی رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ بعض لوگ ان کو اذان کے وقت ملے جب انہوں نے موذن کو اشھد ان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ھوئے سنا تو انھوں نے انگوٹھے چومے اور آنکھوں پر لگائے تو لوگوں نےان کو اس بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے میں پہلے انگوٹھے چوما کرتا تھا پھر چھوڑ دئے پس میری آنکھیں بیمار پڑ گئی میں نے تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم نے اذان کے وقت انگوٹھے آنکھوں پر لگانے کیوں چھوڑ دئیے اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری آنکھیں تندرست ہو جائیں تو پھر یہ عمل دوبارہ کرنا شروع کر دو۔جب میں بیدار ہوا تو یہ عمل کرنا شروع کر دیا پھر مجھ کو ایسا آرام آیا کہ اب تک وہ مرض نہ لوٹا۔
حضرت سیدنا آدم علیہ السلام نے نور مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کی تمنا کی تو وہ نور ان کے انگوٹھوں کے ناخنوں میں چمکایاگیا انہوں نے فرط محبت سے ناخنوں کو چوما اور آنکھوں سے لگایا۔(جاءالحق)
ان روایت و حکایت سے پتہ چلا کہ اذان میں انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا باعث برکت اور مستحب ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ درود شریف پڑھنے کے علاوہ لکھنے والے کا بھی بڑا مقام ہے اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بار بار سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اقدس کے ساتھ لفظ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لکھے اور صرف لکھنے پر اکتفاء نہ کرے بلکہ زبان سے بھی درود شریف پڑھے ۔
اکثر لوگ آج کل درود شریف کی بدلے صلعم،عم، یا اس جیسے چھوٹے الفاظ لکھتے ہیں یہ ناجائز و حرام ہے۔ یونہی رضی اللہ عنہ کی جگہ رض رحمتہ اللہ علیہ کی جگہ رح لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے جن لوگوں کے نام محمد، احمد،علی حسن، حسین کے ساتھ درود شریف یا رضی اللہ عنہ بناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے کہ اس جگہ یہ شخص مراد ہے اس پر درود شریف کا اشارہ کیا معنیٰ؟؟بہارشریعت میں ہے اللہ تعالٰٰی کے نام مبارک کے ساتھ بھی عزوجل پورا لکھیں آدھے جیم پر اکتفاء نہ کریں۔
آج کل کیسا نازک دور ہے فضول مضامین میں تو ہزار ہا صفحات سیاہ کر دئیے جاتے ہیں لیکن جب میٹھے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا اسم گرامی آتا ہے لکھنے والے بھائی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مختصر عبارت لکھنے میں سستی کرتے ہیں ۔یہ بیماری عوام تو عوام 14 صدی کے بڑے بڑے اکابر و فحول کہلانے والوں میں بھی پھیلی ہوتی ہے ۔کوئی صلعم لکھتا ہے کوئی صللعم کوئی فقط ص کوئی علیہ الصلٰوۃ السلام کے بدلے عم ایک ذرہ سیاہی ایک انگل کاغذ یا ایک سیکنڈ وقت بچانے کے لیئے کیسی کیسی عظیم برکات سے محرومی ہوتی ہے۔
حضرت علامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحًتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔۔! پہلا شخص جس نے درود شریف اختصار کے ساتھ ایجاد کیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔۔
اللہ اکبر (عزوجل) کتنا محبت بھرا دور تھا کہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخفف ایجاد کرنے والے کا ہاتھ ہی کاٹ دیا گیا کیوں نہ ہو کہ جو صرف مال چوری کرتا ہے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اس بد نصیب نے تو مال نہیں عظمت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی چوری کرنے کی کوشش کی تھیاور جس کے دل میں عظمت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم راسخ ہے وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ مال کی چوری سے شان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم میں چوری کرنا زیادہ سنگین جرم ہے اور مذکورہ بالاسزا پھر بھی کم ہے ۔ لیکن افسوس کہ آج کل تو یہ چوری عام ہو چکی ہے ہر کتاب، ہر رسالہ، ہر اخبار۔ صلعم، ص، سے بھراپڑا ہے اب نوبت لکھنے ہی کی حد تک نہیں رہی بلکہ اب تو لوگوں کی زبان پر بھی صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے صلعم ہی سنائی دینے لگا ہے۔
یاد رکھیئے صلعم ایک مہمل کلمہ ہے اس کے کوئی معنی نہیں بنتے ۔ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت رکھنے والے جلد بازی سے کام نہ لیا کریں۔ پورا صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے پڑھنے کی عادت بنا ڈالیں ۔)
حضرت ابو سلیمان رحمتہ اللہ علیہ اپنے متعلق واقعہ بیان کرےے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں مدنی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا ۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابو سلیمان تو میرا نام لیتا ہے اور اس پر درود شریف بھی پڑھتا ہے وسلم کیوں نہیں کہتا۔۔؟ یہ چار حرف ہیں ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (القول البدیع)
صلی اللہ علیہ یعنی ان پر اللہ کا درود ہو درود شریف ہے مگر اس میں سلام شامل نہیں ہے جب کہ صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی ان پر اللہ کے درود و سلام ہوں ) میں درود و سلام دونوں شامل ہیں۔
غور فرمائے ۔۔۔! صرف لفظ وسلم کرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں آکر اظہار ناراضگی فرمائیں تو جو غافل اور سست لوگ پورا ہی صلی اللہ علیہ وسلم غائب کر کے صرف ص یا صلعم پر گزارہ کرتے ہیں ان سے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔
اللہ عزوجل ہمیں دنیا،قبر،محشر، ہر جگہ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے بچائے ۔۔۔۔ آمین
تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ۔ بخیل ہے وہ شخص جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اس نے مجھ پر درود شریف نہ پڑھا ہو۔ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مشکوۃ
شفاءالقلوب میں ہے ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس کیلئے جو قبر کھودی گئی اس میں ایک خوفناک کالا سانپ نظر آیا۔ لوگوں نے گھبرا کر وہ قبر بند کر دی اور دوسری قبر کھو دی وہاں بھی وہی خوفناک کالا سانپ موجود تھا بالآخر تیسری جگہ قبر کھو دی وہی کالا سانپ وہاں بھی موجود تھا آخرکار سانپ نے زبان سے پکار کر کہا تم جہاں بھی قبر کھودو گے مین وہاں پہنچوں گا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ قہر و غضب کیوں ہے؟سانپ بولا! یہ شخص جب سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سنتا تھا تو درود شریف پڑھنے سے بخل کرتا تھا۔اب میں اس بخیل کو سزا دیتا رہوں گا۔
لرزجاؤ اور کانپ اٹھو کہ اگر خدانخواستہ اس طرح کی عادت آپ میں پہلے موجود تھی تو گھبرا کر سچے دل سے توبہ کر لیجئے اور آئندہ کیلئے جب بھی پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سنیں تو فورا درودشریف یعنی صلی اللہ علیہ وسلم ضرور پڑھنے کی عادت بنائیں۔
عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیا جا رہا ہو ی کوئی عالم صاحب اپنے بیان میں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی لے رہا ہو تو اکثر لوگ درود شریف پڑھنے سے کوتاہی کرتے ہیں نیز اذان کے وقت بھی جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی آئے تو اپنے انگوٹھوں کو چوم کر آبکھوں پر لگائیں اور درود شریف پڑھیں ۔یہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میرے اس پیارے کی طرح کرے اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔(مقاصد حسنہ) نیزفرمایا کہ ہم قیامت کی صفوں میں اس کو تلاش کر کے اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو اشھد ان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر انگوٹھے چومے اور آنکھوں پر لگائے وہ وہ کبھی اندھا نہ ہو گا نہ کبھی اس کی آنکھیں دکھیں گی ۔(مقاصد حسنہ)
حضرت شیخ نور الدین خرسانی رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ بعض لوگ ان کو اذان کے وقت ملے جب انہوں نے موذن کو اشھد ان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ھوئے سنا تو انھوں نے انگوٹھے چومے اور آنکھوں پر لگائے تو لوگوں نےان کو اس بارے میں دریافت کیا تو فرمانے لگے میں پہلے انگوٹھے چوما کرتا تھا پھر چھوڑ دئے پس میری آنکھیں بیمار پڑ گئی میں نے تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم نے اذان کے وقت انگوٹھے آنکھوں پر لگانے کیوں چھوڑ دئیے اگر تم چاہتے ہو کہ تمھاری آنکھیں تندرست ہو جائیں تو پھر یہ عمل دوبارہ کرنا شروع کر دو۔جب میں بیدار ہوا تو یہ عمل کرنا شروع کر دیا پھر مجھ کو ایسا آرام آیا کہ اب تک وہ مرض نہ لوٹا۔
حضرت سیدنا آدم علیہ السلام نے نور مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے کی تمنا کی تو وہ نور ان کے انگوٹھوں کے ناخنوں میں چمکایاگیا انہوں نے فرط محبت سے ناخنوں کو چوما اور آنکھوں سے لگایا۔(جاءالحق)
ان روایت و حکایت سے پتہ چلا کہ اذان میں انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا باعث برکت اور مستحب ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ درود شریف پڑھنے کے علاوہ لکھنے والے کا بھی بڑا مقام ہے اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بار بار سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اقدس کے ساتھ لفظ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور لکھے اور صرف لکھنے پر اکتفاء نہ کرے بلکہ زبان سے بھی درود شریف پڑھے ۔
اکثر لوگ آج کل درود شریف کی بدلے صلعم،عم، یا اس جیسے چھوٹے الفاظ لکھتے ہیں یہ ناجائز و حرام ہے۔ یونہی رضی اللہ عنہ کی جگہ رض رحمتہ اللہ علیہ کی جگہ رح لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے جن لوگوں کے نام محمد، احمد،علی حسن، حسین کے ساتھ درود شریف یا رضی اللہ عنہ بناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے کہ اس جگہ یہ شخص مراد ہے اس پر درود شریف کا اشارہ کیا معنیٰ؟؟بہارشریعت میں ہے اللہ تعالٰٰی کے نام مبارک کے ساتھ بھی عزوجل پورا لکھیں آدھے جیم پر اکتفاء نہ کریں۔
آج کل کیسا نازک دور ہے فضول مضامین میں تو ہزار ہا صفحات سیاہ کر دئیے جاتے ہیں لیکن جب میٹھے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا اسم گرامی آتا ہے لکھنے والے بھائی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مختصر عبارت لکھنے میں سستی کرتے ہیں ۔یہ بیماری عوام تو عوام 14 صدی کے بڑے بڑے اکابر و فحول کہلانے والوں میں بھی پھیلی ہوتی ہے ۔کوئی صلعم لکھتا ہے کوئی صللعم کوئی فقط ص کوئی علیہ الصلٰوۃ السلام کے بدلے عم ایک ذرہ سیاہی ایک انگل کاغذ یا ایک سیکنڈ وقت بچانے کے لیئے کیسی کیسی عظیم برکات سے محرومی ہوتی ہے۔
حضرت علامہ جلال الدین سیوطی شافعی رحًتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔۔! پہلا شخص جس نے درود شریف اختصار کے ساتھ ایجاد کیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔۔
اللہ اکبر (عزوجل) کتنا محبت بھرا دور تھا کہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخفف ایجاد کرنے والے کا ہاتھ ہی کاٹ دیا گیا کیوں نہ ہو کہ جو صرف مال چوری کرتا ہے اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اس بد نصیب نے تو مال نہیں عظمت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی چوری کرنے کی کوشش کی تھیاور جس کے دل میں عظمت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم راسخ ہے وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ مال کی چوری سے شان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم میں چوری کرنا زیادہ سنگین جرم ہے اور مذکورہ بالاسزا پھر بھی کم ہے ۔ لیکن افسوس کہ آج کل تو یہ چوری عام ہو چکی ہے ہر کتاب، ہر رسالہ، ہر اخبار۔ صلعم، ص، سے بھراپڑا ہے اب نوبت لکھنے ہی کی حد تک نہیں رہی بلکہ اب تو لوگوں کی زبان پر بھی صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے صلعم ہی سنائی دینے لگا ہے۔
یاد رکھیئے صلعم ایک مہمل کلمہ ہے اس کے کوئی معنی نہیں بنتے ۔ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت رکھنے والے جلد بازی سے کام نہ لیا کریں۔ پورا صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے پڑھنے کی عادت بنا ڈالیں ۔)
حضرت ابو سلیمان رحمتہ اللہ علیہ اپنے متعلق واقعہ بیان کرےے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں مدنی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا ۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابو سلیمان تو میرا نام لیتا ہے اور اس پر درود شریف بھی پڑھتا ہے وسلم کیوں نہیں کہتا۔۔؟ یہ چار حرف ہیں ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (القول البدیع)
صلی اللہ علیہ یعنی ان پر اللہ کا درود ہو درود شریف ہے مگر اس میں سلام شامل نہیں ہے جب کہ صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی ان پر اللہ کے درود و سلام ہوں ) میں درود و سلام دونوں شامل ہیں۔
غور فرمائے ۔۔۔! صرف لفظ وسلم کرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں آکر اظہار ناراضگی فرمائیں تو جو غافل اور سست لوگ پورا ہی صلی اللہ علیہ وسلم غائب کر کے صرف ص یا صلعم پر گزارہ کرتے ہیں ان سے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کتنا ناراض ہوتے ہوں گے۔
اللہ عزوجل ہمیں دنیا،قبر،محشر، ہر جگہ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے بچائے ۔۔۔۔ آمین
درود پاک کی فضیلت
درود پاک کی فضیلت حدیث مبارکہ سے
تاجدار رسالت نے ارشاد فرمایا:۔ “قیامت کے روز ہر مقام اور ہر جگہ میں میرے نزدیک تم میں سے وہ ہوگا، جس نے تم میں سے دنیا میں مجھ پر درود پاک زیادہ پڑھا ہوگا۔“
(سعادۃ الدارین۔ ص 60)
تاجدار رسالت نے ارشاد فرمایا:۔ “قیامت کے روز ہر مقام اور ہر جگہ میں میرے نزدیک تم میں سے وہ ہوگا، جس نے تم میں سے دنیا میں مجھ پر درود پاک زیادہ پڑھا ہوگا۔“
(سعادۃ الدارین۔ ص 60)
انعام قبر
شیخ احمد بن منصور کا انتقال ہوا تو اہل شیراز میں سے کسی نے ان کو خواب میں دیکھا کہ وہ جامع شیراز کے محراب میں کھڑے ہیں اور انہوں نے بہترین حلہ زیب تن کیا ہوا ہے ان کے سر پر تاج ہے جو موتیوں سے مزین ہے۔ خواب دیکھنے والے نے پوچھا حضرت ! کیا حال ہے ؟ فرمایا اللہ تعالٰی نے مجھے بخش دیا۔ میرا اکرام فرمایا اور مجھے تاج پہنا کر جنت میں داخل فرمایا۔ پوچھا کس سبب سے ؟ تو جواب دیا کہ میں تاجدار رسالت پر درود پاک کی کثرت کیا کرتا تھا اور یہی عمل کام آ گیا۔ (القول البدیع ص 117)
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
الصلوٰۃ و السلام علیک یانبی اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یانور اللہ
سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے منہ چوم لیا
امام سخاوی اور دیگر محدثین (رحمہم اللہ تعالٰی علیہ) سونے سے پہلے ایک مقررہ تعداد میں دُرود پاک پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک رات آمنہ کے لالصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر کو مُنور فرمایا ہے اور مجھ سے فرما رہے ہیں، “اپنا منہ قریب کر جس سے تُو مجھ پر درود بھیجا کرتا تھا تاکہ میں اس پر بوسہ دوں۔“ فرماتے ہیں کہ مجھے بڑی شرم آئی میں اپنا مُنہ سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دَہن مبارک کے قریب کیسے کروں ؟ پس میں اپنا رُخسار (گال) آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک کے قریب لے گیا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میرے رخسار پر بوسہ دیا۔ جب میں پیدا ہوا تو میرا سارا گھر مُشک کی خوشبو سے مہک رہا تھا اور آٹھ یوم تک معطر رہا اور میرے رُخسار سے بھی آٹھ روز تک خوشبو آتی رہی۔
(جذب القلوب)
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
الصلوٰۃ و السلام علیک یانبی اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یانور اللہ
سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے منہ چوم لیا
امام سخاوی اور دیگر محدثین (رحمہم اللہ تعالٰی علیہ) سونے سے پہلے ایک مقررہ تعداد میں دُرود پاک پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک رات آمنہ کے لالصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر کو مُنور فرمایا ہے اور مجھ سے فرما رہے ہیں، “اپنا منہ قریب کر جس سے تُو مجھ پر درود بھیجا کرتا تھا تاکہ میں اس پر بوسہ دوں۔“ فرماتے ہیں کہ مجھے بڑی شرم آئی میں اپنا مُنہ سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دَہن مبارک کے قریب کیسے کروں ؟ پس میں اپنا رُخسار (گال) آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک کے قریب لے گیا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے میرے رخسار پر بوسہ دیا۔ جب میں پیدا ہوا تو میرا سارا گھر مُشک کی خوشبو سے مہک رہا تھا اور آٹھ یوم تک معطر رہا اور میرے رُخسار سے بھی آٹھ روز تک خوشبو آتی رہی۔
(جذب القلوب)
درود پاک پڑھنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ ایک ایمان افروز حکایت
درود پاک پڑھنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ ایک ایمان افروز
حکایت
امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ایک مالدار آدمی جس کا کردار اچھا نہیں تھا لیکن اسے درود پاک پڑھنے کا شوق بڑا تھا۔ جب اس کا آخری وقت آیا اور جانکنی کی حالت طاری ہوئی تو اس کا چہرہ سیاہ ہو گیا۔ اس نے اسی حالت میں ندا دی۔ “اے اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور درود پاک کی کثرت کرتا ہوں۔“ ابھی اس نے یہ ندا پوری بھی نہ کی تھی کہ اچانک ایک پرندہ آسمان سے نازل ہوا اور اس نے اپنا پَر اس قریب المرگ آدمی کے چہرہ پر پھیر دیا۔ فوراً اس کا چہرہ چمک اٹھا اور کستوری کی سی خوشبو مہک گئی اور وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہوا دنیا سے رخصت ہو گیا۔
اور پھر جب تجہیز و تکفین ہو جانے کے بعد اسے لحد میں رکھا گیا تو ہاتف سے آواز سنی، “ہم نے اس بندے کو قبر میں رکھنے سے پہلے ہی کفایت کی اور اس درود پاک نے جو یہ میرے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر پڑھا کرتا تھا، اسے قبر سے اٹھا کر جنت میں پہنچا دیا ہے۔“
یہ سن کر لوگ بہت متعجب ہوئے اور پھر جب رات ہوئی تو کسی نے دیکھا، زمین و آسمان کے درمیان وہ چل رہا ہے اور پڑھ رہا ہے۔
(درۃ الناصحین ۔ ص 172)
حکایت
امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ایک مالدار آدمی جس کا کردار اچھا نہیں تھا لیکن اسے درود پاک پڑھنے کا شوق بڑا تھا۔ جب اس کا آخری وقت آیا اور جانکنی کی حالت طاری ہوئی تو اس کا چہرہ سیاہ ہو گیا۔ اس نے اسی حالت میں ندا دی۔ “اے اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور درود پاک کی کثرت کرتا ہوں۔“ ابھی اس نے یہ ندا پوری بھی نہ کی تھی کہ اچانک ایک پرندہ آسمان سے نازل ہوا اور اس نے اپنا پَر اس قریب المرگ آدمی کے چہرہ پر پھیر دیا۔ فوراً اس کا چہرہ چمک اٹھا اور کستوری کی سی خوشبو مہک گئی اور وہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہوا دنیا سے رخصت ہو گیا۔
اور پھر جب تجہیز و تکفین ہو جانے کے بعد اسے لحد میں رکھا گیا تو ہاتف سے آواز سنی، “ہم نے اس بندے کو قبر میں رکھنے سے پہلے ہی کفایت کی اور اس درود پاک نے جو یہ میرے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر پڑھا کرتا تھا، اسے قبر سے اٹھا کر جنت میں پہنچا دیا ہے۔“
یہ سن کر لوگ بہت متعجب ہوئے اور پھر جب رات ہوئی تو کسی نے دیکھا، زمین و آسمان کے درمیان وہ چل رہا ہے اور پڑھ رہا ہے۔
(درۃ الناصحین ۔ ص 172)
ابرِ رحمت
ابرِ رحمت
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:-
“جو شخص مجھ پر ایک بار درود شریف پڑھے اللہ تعالٰی اس درود شریف پڑھنے والے کے سانس سے ایک سفید بادل پیدا فرماتا ہے۔ پھر اسے برسنے کا حکم دیتا ہے۔ جب وہ برستا ہے تو اللہ تبارک و تعالٰی زمین پر برسنے والے ہر قطرے سے سونا پیدا فرماتا ہے اور پہاڑ پر گرنے والے ہر قطرہ سے چاندی پیدا فرماتا ہے اور کافر پر گرنے والے ہر قطرے کی برکت سے اس کو ایمان کی دولت نصیب فرماتا ہے۔“ (مکاشفۃ القلوب)
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:-
“جو شخص مجھ پر ایک بار درود شریف پڑھے اللہ تعالٰی اس درود شریف پڑھنے والے کے سانس سے ایک سفید بادل پیدا فرماتا ہے۔ پھر اسے برسنے کا حکم دیتا ہے۔ جب وہ برستا ہے تو اللہ تبارک و تعالٰی زمین پر برسنے والے ہر قطرے سے سونا پیدا فرماتا ہے اور پہاڑ پر گرنے والے ہر قطرہ سے چاندی پیدا فرماتا ہے اور کافر پر گرنے والے ہر قطرے کی برکت سے اس کو ایمان کی دولت نصیب فرماتا ہے۔“ (مکاشفۃ القلوب)
رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا
رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
الصلوٰۃ و السلام علیک یانبی اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یانور اللہ
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:۔
“جو شخص مجھ پر ایک بار درود شریف پڑھے اللہ تعالٰی اس درود شریف پڑھنے والے کے سانس سے ایک سفید بادل پیدا فرماتا ہے۔ پھر اسے برسنے کا حکم دیتا ہے۔ جب وہ برستا ہے تو اللہ تبارک و تعالٰی زمین پر برسنے والے ہر قطرے سے سونا پیدا فرماتا ہے اور پہاڑ پر گرنے والے ہر قطرہ سے چاندی پیدا فرماتا ہے اور کافر پر گرنے والے ہر قطرے کی برکت سے اس کو ایمان کی دولت نصیب فرماتا ہے۔“ (مکاشفۃ القلوب)
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
الصلوٰۃ و السلام علیک یانبی اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یانور اللہ
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:۔
“جو شخص مجھ پر ایک بار درود شریف پڑھے اللہ تعالٰی اس درود شریف پڑھنے والے کے سانس سے ایک سفید بادل پیدا فرماتا ہے۔ پھر اسے برسنے کا حکم دیتا ہے۔ جب وہ برستا ہے تو اللہ تبارک و تعالٰی زمین پر برسنے والے ہر قطرے سے سونا پیدا فرماتا ہے اور پہاڑ پر گرنے والے ہر قطرہ سے چاندی پیدا فرماتا ہے اور کافر پر گرنے والے ہر قطرے کی برکت سے اس کو ایمان کی دولت نصیب فرماتا ہے۔“ (مکاشفۃ القلوب)
مشکل جو سر پہ آ پڑی تیرے ہی نام سے ٹلی
مشکل جو سر پہ آ پڑی تیرے ہی نام سے ٹلی
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
الصلوٰۃ والسلام علیک یانبی اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یانور اللہ
امداد مصطفٰی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)
ایک غریب شخص تھا جس پر پانچ سو (100) درہم کا قرضہ تھا۔ اُسے ایک رات سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی خواب میں زیارت ہوئی۔ اُس نے سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنی پریشانی عرض کی۔
سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ تم ابوالحسن کیسانی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) کے پاس جاؤ اور میری طرف سے اُسے کہو کہ وہ تمہیں پانچ سو (500) درہم دے۔ وہ نیشاپُور میں ایک سخی مرد ہے۔ ہر سال دس ہزار (10000) غریبوں کو کپڑے دیتا ہے۔ وہ اگر تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو کہہ دینا، “تم ہر روز دربار رسالت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں سو بار (100) دُرود پاک کا تُحفہ پیش کرتے ہو۔ مگر کل تم نے دُرود پاک نہیں پڑھا۔“
وہ شخص بیدار ہوا اور ابوالحسن کیسانی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) کے پاس پہنچ گیا اور اپنا حال زار بیان کیا ساتھ ہی سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کاپیغام بھی سُنایا تو ابوالحسن (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) سنتے ہی وَجد میں آ گئے اور تخت سے اُتر کر دربار الٰہی (عزوجل) میں سجدہ شکر ادا کیا، پھر کہا، اے بھائی ! یہ میرے اور اللہ (عزوجل) کے درمیان ایک راز تھا، دُوسرا کوئی اس راز سے واقف نہ تھا۔ واقعی کل میں دُرودپاک پڑھنے سے محروم رہا تھا۔
پھر ابوالحسن کیسانی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اس کو پانچ سو (500) کے بجائے دو ہزار پانچ سو درہم دے دو۔ پھر کہا، اے بھائی ! پانچ سو (500) درہم سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی تعمیل میں پیش کر رہا ہوں، ایک ہزار (1000) درہم مدنی آقا (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے پیغام اور بشارت لانے کا شکرانہ ہے اور یہ ایک ہزار درہم آپ کے یہاں قدم رنجہ فرمانے کا نذانہ ہے۔ مذید کہا کہ آپ کو آئندہ جب کبھی کوئی ضرورت پیش ہو میرے پاس ضرور تشریف لایا کریں۔ (معارج النبوۃ)
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
الصلوٰۃ والسلام علیک یانبی اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یانور اللہ
امداد مصطفٰی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)
ایک غریب شخص تھا جس پر پانچ سو (100) درہم کا قرضہ تھا۔ اُسے ایک رات سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی خواب میں زیارت ہوئی۔ اُس نے سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنی پریشانی عرض کی۔
سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ تم ابوالحسن کیسانی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) کے پاس جاؤ اور میری طرف سے اُسے کہو کہ وہ تمہیں پانچ سو (500) درہم دے۔ وہ نیشاپُور میں ایک سخی مرد ہے۔ ہر سال دس ہزار (10000) غریبوں کو کپڑے دیتا ہے۔ وہ اگر تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو کہہ دینا، “تم ہر روز دربار رسالت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں سو بار (100) دُرود پاک کا تُحفہ پیش کرتے ہو۔ مگر کل تم نے دُرود پاک نہیں پڑھا۔“
وہ شخص بیدار ہوا اور ابوالحسن کیسانی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) کے پاس پہنچ گیا اور اپنا حال زار بیان کیا ساتھ ہی سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کاپیغام بھی سُنایا تو ابوالحسن (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) سنتے ہی وَجد میں آ گئے اور تخت سے اُتر کر دربار الٰہی (عزوجل) میں سجدہ شکر ادا کیا، پھر کہا، اے بھائی ! یہ میرے اور اللہ (عزوجل) کے درمیان ایک راز تھا، دُوسرا کوئی اس راز سے واقف نہ تھا۔ واقعی کل میں دُرودپاک پڑھنے سے محروم رہا تھا۔
پھر ابوالحسن کیسانی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اس کو پانچ سو (500) کے بجائے دو ہزار پانچ سو درہم دے دو۔ پھر کہا، اے بھائی ! پانچ سو (500) درہم سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی تعمیل میں پیش کر رہا ہوں، ایک ہزار (1000) درہم مدنی آقا (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے پیغام اور بشارت لانے کا شکرانہ ہے اور یہ ایک ہزار درہم آپ کے یہاں قدم رنجہ فرمانے کا نذانہ ہے۔ مذید کہا کہ آپ کو آئندہ جب کبھی کوئی ضرورت پیش ہو میرے پاس ضرور تشریف لایا کریں۔ (معارج النبوۃ)
خوفناک بلا
خوفناک بلا
ایک شخص نے رات خواب میں ایک مہیب (ڈراؤنی) اور قبیح صورت دیکھی اور گھبرا کر پوچھا، تو کون ہے ؟ بلا نے کہا میں تیرے بُرے عمل ہوں۔ پوچھا، تجھ سے چھٹکارا پانے کی کیا صورت ہے ؟ کہا، کثرت دُرود۔
(سعادۃ الدارین ص 120)
ایک شخص نے رات خواب میں ایک مہیب (ڈراؤنی) اور قبیح صورت دیکھی اور گھبرا کر پوچھا، تو کون ہے ؟ بلا نے کہا میں تیرے بُرے عمل ہوں۔ پوچھا، تجھ سے چھٹکارا پانے کی کیا صورت ہے ؟ کہا، کثرت دُرود۔
(سعادۃ الدارین ص 120)
ترک و اختصار درود و سلام کی ممانعت
ترک و اختصار درود و سلام کی ممانعت
اسم گرامی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سُن کر یا لکھنے کے بعد دُرود و سلام نہ پڑھنا یا نہ لکھنا باعثِ عتاب و عذاب ہے۔ اور محرومی فیوض و ثواب بھی۔ اور یہی حکم درود و سلام کے اختصار کرنے والے کا بھی ہے۔ پہلا وہ شخص جس نے درود و سلام کا اختصاع کیا۔ اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ اعلٰی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ فتاوٰی افریقہ میں ایک جگہ تنبیہ ضروری فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ سوال میں جو عبارت دلیل الاحسان سے نقل کی ہے اس میں اور خود عبارت سوال میں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی جگہ صلعم لکھا ہے اور یہ سخت ناجائز ہے۔ یہ بلا عوام تو عوام 14 صدی کے بڑے بڑے اکابر و فحول کہلانے والوں میں بھی پھیلی ہوئی ہے۔ کوئی صلعم لکھتا ہے کوئی صللم فقط ص کوئی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بدلے عم یا ءم ایک ذرہ سیاہی یا ایک انگلی کاغذ یا ایک سیکنڈ وقت بچانے کے لئے کیسی کیسی عظیم برکات سے درو پڑتے اور محرومی و بے نصیبی کا ڈنڈا پکڑتے ہیں۔ یعنی نام شریف سن کر یا لکھنے کے بعد نہ دُرود و سلام ترک کرنا چاہئیے اور نہ ہی اختصار کی خاطر مہمل اور بے معنی لفظ لکھنا چاہئیے۔ بلکہ دُرود و سلام ہی لکھے اور پورا درود و سلام۔ جیسا کہ علماء سے منقول و ماخوذ ہے۔ سہارنپور کے شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب اپنی کتاب فضائل درود میں رقمطراز ہیں۔ اگر تحریر میں بار بار نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام پاک آئے۔ تو بار بار درود شریف لکھے۔ اور پورا درود شریف لکھے۔ اور کاہلوں اور جاہلوں کی طرح صلعم وغیرہ الفاظ کے ساتھ اشارہ پر قناعت نہ کرے۔ (بحوالہ برکات درود و سلام)
حُصولِ برکت و رحمت کے لئے ایک بات یہ بھی ضروری ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نامِ اقدس سن کر یا لکھنے کے بعد صرف صلوٰۃ یا صرف سلام پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ صلوٰۃ و سلام ہر دو لفظ کو تحریر و تقریر میں لائے۔ روح البیان میں ہے کہ صرف صلوٰۃ یا صرف سلام پر ہی اختصار مکروہ ہے۔ (برکات درود و سلام)
یعنی جیسی رب کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے ویسے ہی الفاظ کا درود و سلام میں انتظام بھی کیا جائے۔ اس لئے کہ اس بارگاہ میں درود و سلام پڑھنے کی کیفیت نہیں دیکھی جاتی۔ یہ تو صرف دل کے لگاؤ کا ایک امتحان ہے۔ جو جیسی اس محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے اُلفت و محبت کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالٰی اس بندے کو نوازتا بھی ہے۔ کیونکہ کائنات کی ساری خوشیاں اسی محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا پر قربان ہیں۔
اللہ تعالٰی صرف اپنے محبوب کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ انہیں ہی راضی کرنا چاہتا ہے۔
اسم گرامی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سُن کر یا لکھنے کے بعد دُرود و سلام نہ پڑھنا یا نہ لکھنا باعثِ عتاب و عذاب ہے۔ اور محرومی فیوض و ثواب بھی۔ اور یہی حکم درود و سلام کے اختصار کرنے والے کا بھی ہے۔ پہلا وہ شخص جس نے درود و سلام کا اختصاع کیا۔ اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ اعلٰی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ فتاوٰی افریقہ میں ایک جگہ تنبیہ ضروری فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ سوال میں جو عبارت دلیل الاحسان سے نقل کی ہے اس میں اور خود عبارت سوال میں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی جگہ صلعم لکھا ہے اور یہ سخت ناجائز ہے۔ یہ بلا عوام تو عوام 14 صدی کے بڑے بڑے اکابر و فحول کہلانے والوں میں بھی پھیلی ہوئی ہے۔ کوئی صلعم لکھتا ہے کوئی صللم فقط ص کوئی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بدلے عم یا ءم ایک ذرہ سیاہی یا ایک انگلی کاغذ یا ایک سیکنڈ وقت بچانے کے لئے کیسی کیسی عظیم برکات سے درو پڑتے اور محرومی و بے نصیبی کا ڈنڈا پکڑتے ہیں۔ یعنی نام شریف سن کر یا لکھنے کے بعد نہ دُرود و سلام ترک کرنا چاہئیے اور نہ ہی اختصار کی خاطر مہمل اور بے معنی لفظ لکھنا چاہئیے۔ بلکہ دُرود و سلام ہی لکھے اور پورا درود و سلام۔ جیسا کہ علماء سے منقول و ماخوذ ہے۔ سہارنپور کے شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب اپنی کتاب فضائل درود میں رقمطراز ہیں۔ اگر تحریر میں بار بار نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام پاک آئے۔ تو بار بار درود شریف لکھے۔ اور پورا درود شریف لکھے۔ اور کاہلوں اور جاہلوں کی طرح صلعم وغیرہ الفاظ کے ساتھ اشارہ پر قناعت نہ کرے۔ (بحوالہ برکات درود و سلام)
حُصولِ برکت و رحمت کے لئے ایک بات یہ بھی ضروری ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نامِ اقدس سن کر یا لکھنے کے بعد صرف صلوٰۃ یا صرف سلام پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ صلوٰۃ و سلام ہر دو لفظ کو تحریر و تقریر میں لائے۔ روح البیان میں ہے کہ صرف صلوٰۃ یا صرف سلام پر ہی اختصار مکروہ ہے۔ (برکات درود و سلام)
یعنی جیسی رب کے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے ویسے ہی الفاظ کا درود و سلام میں انتظام بھی کیا جائے۔ اس لئے کہ اس بارگاہ میں درود و سلام پڑھنے کی کیفیت نہیں دیکھی جاتی۔ یہ تو صرف دل کے لگاؤ کا ایک امتحان ہے۔ جو جیسی اس محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے اُلفت و محبت کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالٰی اس بندے کو نوازتا بھی ہے۔ کیونکہ کائنات کی ساری خوشیاں اسی محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا پر قربان ہیں۔
اللہ تعالٰی صرف اپنے محبوب کو خوش کرنا چاہتا ہے۔ انہیں ہی راضی کرنا چاہتا ہے۔
بارگاہ خداوندی سے دورد و سلام پڑھنے کا حکم
بارگاہ خداوندی سے دورد و سلام پڑھنے کا حکم
درود و سلام ایسا محبوب ترین وظیفہ ہے کہ خود خداوند قدوس اور اس کے فرشتے حبیب پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ ارشاد ربّانی ہے۔ ان اللہ وملٰئکۃ یصلون علی النبی اور پھر اللہ تعالٰی نے اس درود و سلام کے ورد کا حکم اپنے بندوں کو بھی فرمایا۔ قرآن ناطق ہے۔ یا ایھا الذین اٰمنو صلوا علیہ وسلموا تسلیما سعادۃ دارین میں ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کی مبارک پسلی سے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا فرمایا۔ آدم علیہ السلام نے دیکھا۔ چونکہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم اطہر میں شہوت پیدا فرما دی تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ یااللہ میرا اس کے ساتھ نکاح کردے۔ ارشاد باری ہوا اس کا مہر ادا کرو۔ عرض کیا مولٰی اس کا مہر کیا ہے۔ فرمایا جو عرش پر نامِ نامی لکھا ہوا اس نام والے میرے حبیب پر دس بار درود پاک پڑھو۔ عرض کی یااللہ۔ اگر درود شریف پڑھوں تو حوّا کے ساتھ میرا نکاح کر دےگا۔ فرمایا ہاں۔ تو حضرت آدم علیہ السلام نے درود پاک پڑھا اور اللہ تعالٰی نے ان کا حضرت حّوا علیہا السلام کے ہمراہ نکاح کر دیا۔
حضرت امام ابی القاسم القشیری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے رسالہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے تجھ میں دس ہزار کان پیدا فرمائے یہاں تک کہ تو نے میرا کلام سنا اور دس ہزار زبانیں پیدا فرمائیں جس کے سبب تو نے مجھ سے کلام کیا۔ تو مجھے سب سے زیادہ محبوب اور نزدیک ترین اس وقت ہوگا جب تو محمد عربی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود شریف بھیجے گا۔
درود و سلام ایسا محبوب ترین وظیفہ ہے کہ خود خداوند قدوس اور اس کے فرشتے حبیب پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ ارشاد ربّانی ہے۔ ان اللہ وملٰئکۃ یصلون علی النبی اور پھر اللہ تعالٰی نے اس درود و سلام کے ورد کا حکم اپنے بندوں کو بھی فرمایا۔ قرآن ناطق ہے۔ یا ایھا الذین اٰمنو صلوا علیہ وسلموا تسلیما سعادۃ دارین میں ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کی مبارک پسلی سے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا فرمایا۔ آدم علیہ السلام نے دیکھا۔ چونکہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم اطہر میں شہوت پیدا فرما دی تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ یااللہ میرا اس کے ساتھ نکاح کردے۔ ارشاد باری ہوا اس کا مہر ادا کرو۔ عرض کیا مولٰی اس کا مہر کیا ہے۔ فرمایا جو عرش پر نامِ نامی لکھا ہوا اس نام والے میرے حبیب پر دس بار درود پاک پڑھو۔ عرض کی یااللہ۔ اگر درود شریف پڑھوں تو حوّا کے ساتھ میرا نکاح کر دےگا۔ فرمایا ہاں۔ تو حضرت آدم علیہ السلام نے درود پاک پڑھا اور اللہ تعالٰی نے ان کا حضرت حّوا علیہا السلام کے ہمراہ نکاح کر دیا۔
حضرت امام ابی القاسم القشیری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے رسالہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے تجھ میں دس ہزار کان پیدا فرمائے یہاں تک کہ تو نے میرا کلام سنا اور دس ہزار زبانیں پیدا فرمائیں جس کے سبب تو نے مجھ سے کلام کیا۔ تو مجھے سب سے زیادہ محبوب اور نزدیک ترین اس وقت ہوگا جب تو محمد عربی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود شریف بھیجے گا۔
درود پاک کی کثرت
درود پاک کی کثرت
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) فرماتے ہیں :-
“مومن صادق اور محب مشتاق پر لازم ہے کہ درود شریف کی کثرت کرے اور دوسرے اعمال پر اسے مقدم (بڑھ کر) جاننے میں کمی نہ کرے۔ جس قدر عدد مخصوص کر سکے۔ اور پھر اس مقررہ عدد کو روزانہ کا ورد بنائے۔ کیونکہ
“نورد خیرالعمل او ورد قلیل دائم خیر من کثیر منقطع “
یعنی اچھے عمل کا ورد اگرچہ تھوڑا ہو، ہمیشگی کے ساتھ کرے تو بہتر ہے اس عمل سے جو زیادہ تو ہو مگر اس پر مُداد مت نہ ہو۔
اور مذید فرماتے ہیں، اس مومن پر نہایت تعجب ہے کہ وہ دن اور رات کی ساعات (گھڑیوں) میں سے ایک گھڑی بھی اس عبادت پر صَرف نہ کرے جو منبع انوار و برکات اور تمام بھلائیوں اور سعادتوں کے دروازے کھولنے والی ہے۔ وہ بھی تو ایک عاشق تھا جس نے عرض کیا تھا، “اجعل لک صلوٰتی کلھا“ یعنی یارسول اللہ ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں اپنا سارا وقت درود شریف میں گزارا کروں گا۔ اور اس پر سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت مرحمت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا، “یکفی ھمک“ یعنی یہ تیرے غموں کو کفایت کرے گا۔ اور فرماتے ہیں، اہل سلوک کے لئے درود شریف کا درد فتوحات عظیمہ کا سبب ہے اور بعض مشائخ (رحمھہ اللہ) نے فرمایا ہے کہ مرشد کامل نہ ملنے کی صورت میں درود شریف کا التزام کر لے کہ یہ طالب کے لئے موجب موصل ہے۔ (یعنی درود شریف اللہ تعالٰی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔)
مذید فرمایا کہ مشائخ کرام (رحمھم اللہ) فرماتے ہیں کہ کثرت درود شریف سے ہمیں سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت حاصل ہوتی ہے۔ اور جو شخص آنحضرت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ستودہ صفات پر کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے اسے شاہ مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت خواب بلکہ بیداری میں حاصل ہوگی۔“ انشاءاللہ عزوجل
(جذب القلوب)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) فرماتے ہیں :-
“مومن صادق اور محب مشتاق پر لازم ہے کہ درود شریف کی کثرت کرے اور دوسرے اعمال پر اسے مقدم (بڑھ کر) جاننے میں کمی نہ کرے۔ جس قدر عدد مخصوص کر سکے۔ اور پھر اس مقررہ عدد کو روزانہ کا ورد بنائے۔ کیونکہ
“نورد خیرالعمل او ورد قلیل دائم خیر من کثیر منقطع “
یعنی اچھے عمل کا ورد اگرچہ تھوڑا ہو، ہمیشگی کے ساتھ کرے تو بہتر ہے اس عمل سے جو زیادہ تو ہو مگر اس پر مُداد مت نہ ہو۔
اور مذید فرماتے ہیں، اس مومن پر نہایت تعجب ہے کہ وہ دن اور رات کی ساعات (گھڑیوں) میں سے ایک گھڑی بھی اس عبادت پر صَرف نہ کرے جو منبع انوار و برکات اور تمام بھلائیوں اور سعادتوں کے دروازے کھولنے والی ہے۔ وہ بھی تو ایک عاشق تھا جس نے عرض کیا تھا، “اجعل لک صلوٰتی کلھا“ یعنی یارسول اللہ ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں اپنا سارا وقت درود شریف میں گزارا کروں گا۔ اور اس پر سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت مرحمت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا، “یکفی ھمک“ یعنی یہ تیرے غموں کو کفایت کرے گا۔ اور فرماتے ہیں، اہل سلوک کے لئے درود شریف کا درد فتوحات عظیمہ کا سبب ہے اور بعض مشائخ (رحمھہ اللہ) نے فرمایا ہے کہ مرشد کامل نہ ملنے کی صورت میں درود شریف کا التزام کر لے کہ یہ طالب کے لئے موجب موصل ہے۔ (یعنی درود شریف اللہ تعالٰی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔)
مذید فرمایا کہ مشائخ کرام (رحمھم اللہ) فرماتے ہیں کہ کثرت درود شریف سے ہمیں سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت حاصل ہوتی ہے۔ اور جو شخص آنحضرت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ستودہ صفات پر کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے اسے شاہ مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت خواب بلکہ بیداری میں حاصل ہوگی۔“ انشاءاللہ عزوجل
(جذب القلوب)
فضائل و فوائد درود و سلام
فضائل و فوائد درود و سلام
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے فضائل و فوائد بے شمار ہیں۔ جن کا احاطہ بشری طاقت سے باہر ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار رحمت نازل فرماتا ہے۔
حضرت عُمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں دعاء آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے چڑھ نہیں سکتی جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے۔
درمختار میں بروایت اصبہانی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے اور وہ قبول ہو جائے تو اللہ تعالٰی اس کے اسّی برس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ (بہارِ شریعت)
کنزالعمال میں حضرت انس سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی دن مجھ پر ایک ہزار بار دورد پڑھے وہ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا محل دیکھ لے۔ (برکات درود و سلام)
یعنی جو جس قدر دورد و سلام کے تحفے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے اتنی ہی کامیابیوں سے سرفراز بھی فرماتا ہے۔ شہد میں مٹھاس نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے ہی کی برکت سے آٹی ہے۔ نماز کا آغاز جہاں خدا کی حمد سے کیا جاتا ہے وہیں اختتام اس جانِ ایمان صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھ کر کیا جاتا ہے۔ تاکہ نماز اور نمازی کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے اور سب سے بڑی دولت جو حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب درود و سلام پڑھنے والا صدق دل اور حسن عمل کے ساتھ درود و سلام کا التزام کرتا ہے۔ تو اسے آقائے کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیدار پُر بہار سے مشرف فرمایا جاتا ہے جو دولت دنیا و مافیہا کی بازی لگا کر بھی نہیں پائی جا سکتی۔
سرور القلوب میں حضرت مفتی نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ رقم طراز ہیں۔ کہ علماء راسخین اور ائمہ دین فرماتے ہیں ایک درود دنیا و مافیہا سے بہتر اور دونوں جہاں کیلئے کافی ہے۔ اس کا ثواب ہزار سالہ طاعت کے ثواب سے زیادہ اور اس کا رتبہ اکثر عبادات بدنیہ، مالیہ اور قولیہ سے اعلٰی ہے۔ یہ فضل و کرم اور سعادت و عنایت حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہی کی بدولت اس اُمت بابرکت کو نصیب ہے۔ (برکات درود و سلام)
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے فضائل و فوائد بے شمار ہیں۔ جن کا احاطہ بشری طاقت سے باہر ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار رحمت نازل فرماتا ہے۔
حضرت عُمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں دعاء آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے چڑھ نہیں سکتی جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے۔
درمختار میں بروایت اصبہانی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے اور وہ قبول ہو جائے تو اللہ تعالٰی اس کے اسّی برس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ (بہارِ شریعت)
کنزالعمال میں حضرت انس سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی دن مجھ پر ایک ہزار بار دورد پڑھے وہ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا محل دیکھ لے۔ (برکات درود و سلام)
یعنی جو جس قدر دورد و سلام کے تحفے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے اتنی ہی کامیابیوں سے سرفراز بھی فرماتا ہے۔ شہد میں مٹھاس نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے ہی کی برکت سے آٹی ہے۔ نماز کا آغاز جہاں خدا کی حمد سے کیا جاتا ہے وہیں اختتام اس جانِ ایمان صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھ کر کیا جاتا ہے۔ تاکہ نماز اور نمازی کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے اور سب سے بڑی دولت جو حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب درود و سلام پڑھنے والا صدق دل اور حسن عمل کے ساتھ درود و سلام کا التزام کرتا ہے۔ تو اسے آقائے کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیدار پُر بہار سے مشرف فرمایا جاتا ہے جو دولت دنیا و مافیہا کی بازی لگا کر بھی نہیں پائی جا سکتی۔
سرور القلوب میں حضرت مفتی نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ رقم طراز ہیں۔ کہ علماء راسخین اور ائمہ دین فرماتے ہیں ایک درود دنیا و مافیہا سے بہتر اور دونوں جہاں کیلئے کافی ہے۔ اس کا ثواب ہزار سالہ طاعت کے ثواب سے زیادہ اور اس کا رتبہ اکثر عبادات بدنیہ، مالیہ اور قولیہ سے اعلٰی ہے۔ یہ فضل و کرم اور سعادت و عنایت حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہی کی بدولت اس اُمت بابرکت کو نصیب ہے۔ (برکات درود و سلام)
آخرت میں انعام
آخرت میں انعام
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔ فرمایا کہ، “بروز قیامت اللہ تعالٰی کے حکم سے حضرت ابو البشر آدم علیہ السلام عرش الٰہی کے پاس سبز حلہ پہن کر تشریف فرما ہوں گے اور یہ دیکھتے ہوں گے کہ میری اولاد میں کس کس کو جنت میں لے جاتے ہیں اور کس کس کو دوزخ لے جاتے ہیں۔
اچانک آدم علیہ السلام دیکھیں گے کہ سید انبیاء و المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ایک امتی کو فرشتے دوزخ لے جا رہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام یہ دیکھ کر ندا دیں گے۔ اے اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم آپ کے ایک امتی کو ملائکہ کرام دوزخ لے جا رہے ہیں۔ سید دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ یہ سن کر میں اپنا تہبند مضبوط پکڑ کر ان فرشتوں کے پیچھے دوڑوں گا اور کہوں گا، اے رب تعالٰی کے فرشتو ! ٹھہر جاؤ۔
فرشتے یہ سن کر عرض کریں گے۔ “یا حبیب اللہ ! ہم فرشتے ہیں اور فرشتے اللہ کی حکم عدولی نہیں کر سکتے اور وہ کام کرتے ہیں جس کا ہمیں دربار الٰہی سے حکم ملتا ہے۔ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنی ریش مبارک پکڑ کر دربار الٰہی میں عرض کریں گے۔ اے میرے رب کریم کیا تیرا میرے ساتھ یہ وعدہ نہیں ہے کہ تجھے تیری امت کے بارے میں رسوا نہیں کروں گا تو عرش الٰہی سے حکم آئے گا۔ اے فرشتو ! میرے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو اور اس بندے کو واپس میزان پر لے چلو۔ فرشتے اس کو فوراً میزان کے پاس لے جائیں گے اور جب اس کے اعمال کا وزن کریں گے تو میں اپنی جیب سے ایک نور کا سفید کاغذ نکالوں گا اور بسم اللہ شریف پڑھ کر نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دوں گا تو اس کا نیکیوں والا پلڑا وزنی ہو جائے گا۔
اچانک ایک شور برپا ہوگا کہ کامیاب ہو گیا، کامیاب ہوگا۔ اس کو جنت میں لے جاؤ۔ جب فرشتے اسے جنت کو لے جاتے ہوں گے تو وہ کہے گا، اے میرے رب کے فرشتو ! ٹھہرو میں اس بزرگ سے کچھ عرض کر لوں۔
تب وہ عرض کرے گا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کا کیسا نورانی چہرہ ہے اور آپ کا خلق کتنا عظیم ہے۔ آپ نے میرے آنسوؤں پر رحم کھایا اور میری لغزشوں کو معاف کرایا۔ آپ کون ہیں ؟ فرمائیں گے، میں تیرا نبی محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہوں اور یہ تیرا درود پاک تھا جو تونے مجھ پر پڑھا ہوا تھا۔ وہ میں نے تیرے آج کے دن کے لئے محفوظ رکھا ہوا تھا۔“
(القول البدیع ۔ ص123، معارج النبوۃ، ص 303 جلد1)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔ فرمایا کہ، “بروز قیامت اللہ تعالٰی کے حکم سے حضرت ابو البشر آدم علیہ السلام عرش الٰہی کے پاس سبز حلہ پہن کر تشریف فرما ہوں گے اور یہ دیکھتے ہوں گے کہ میری اولاد میں کس کس کو جنت میں لے جاتے ہیں اور کس کس کو دوزخ لے جاتے ہیں۔
اچانک آدم علیہ السلام دیکھیں گے کہ سید انبیاء و المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ایک امتی کو فرشتے دوزخ لے جا رہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام یہ دیکھ کر ندا دیں گے۔ اے اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم آپ کے ایک امتی کو ملائکہ کرام دوزخ لے جا رہے ہیں۔ سید دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ یہ سن کر میں اپنا تہبند مضبوط پکڑ کر ان فرشتوں کے پیچھے دوڑوں گا اور کہوں گا، اے رب تعالٰی کے فرشتو ! ٹھہر جاؤ۔
فرشتے یہ سن کر عرض کریں گے۔ “یا حبیب اللہ ! ہم فرشتے ہیں اور فرشتے اللہ کی حکم عدولی نہیں کر سکتے اور وہ کام کرتے ہیں جس کا ہمیں دربار الٰہی سے حکم ملتا ہے۔ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنی ریش مبارک پکڑ کر دربار الٰہی میں عرض کریں گے۔ اے میرے رب کریم کیا تیرا میرے ساتھ یہ وعدہ نہیں ہے کہ تجھے تیری امت کے بارے میں رسوا نہیں کروں گا تو عرش الٰہی سے حکم آئے گا۔ اے فرشتو ! میرے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو اور اس بندے کو واپس میزان پر لے چلو۔ فرشتے اس کو فوراً میزان کے پاس لے جائیں گے اور جب اس کے اعمال کا وزن کریں گے تو میں اپنی جیب سے ایک نور کا سفید کاغذ نکالوں گا اور بسم اللہ شریف پڑھ کر نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دوں گا تو اس کا نیکیوں والا پلڑا وزنی ہو جائے گا۔
اچانک ایک شور برپا ہوگا کہ کامیاب ہو گیا، کامیاب ہوگا۔ اس کو جنت میں لے جاؤ۔ جب فرشتے اسے جنت کو لے جاتے ہوں گے تو وہ کہے گا، اے میرے رب کے فرشتو ! ٹھہرو میں اس بزرگ سے کچھ عرض کر لوں۔
تب وہ عرض کرے گا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کا کیسا نورانی چہرہ ہے اور آپ کا خلق کتنا عظیم ہے۔ آپ نے میرے آنسوؤں پر رحم کھایا اور میری لغزشوں کو معاف کرایا۔ آپ کون ہیں ؟ فرمائیں گے، میں تیرا نبی محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہوں اور یہ تیرا درود پاک تھا جو تونے مجھ پر پڑھا ہوا تھا۔ وہ میں نے تیرے آج کے دن کے لئے محفوظ رکھا ہوا تھا۔“
(القول البدیع ۔ ص123، معارج النبوۃ، ص 303 جلد1)
درود شریف پڑھنے کے فضائل
درود شریف پڑھنے کے فضائل
ایک شخص مسطح نامی جو کہ آزاد طبع نفسانی خواہشات کا پیروکار تھا، وہ فوت ہو گیا تو کسی صوفی بزرگ نے خواب میں دیکھا۔ پوچھا، کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے اللہ عزوجل نے بخش دیا ہے۔ پوچھا، کس سبب سے بخشش ہوئی ؟
کہا، میں نے ایک محدث صاحب کے ہاں حدیث پاک باسند پڑھی۔ حضرت شیخ محدث نے سید دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھا اور میں نے بھی بلند آواز سے درود پاک پڑھا اور جب اہل مجلس نے سنا تو انہوں نے بھی درود پاک پڑھا تو اللہ تعالٰی نے اس کی برکت سے ہم سب کو بخش دیا۔
(القول البدیع، ص 117)
ایک شخص مسطح نامی جو کہ آزاد طبع نفسانی خواہشات کا پیروکار تھا، وہ فوت ہو گیا تو کسی صوفی بزرگ نے خواب میں دیکھا۔ پوچھا، کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے اللہ عزوجل نے بخش دیا ہے۔ پوچھا، کس سبب سے بخشش ہوئی ؟
کہا، میں نے ایک محدث صاحب کے ہاں حدیث پاک باسند پڑھی۔ حضرت شیخ محدث نے سید دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھا اور میں نے بھی بلند آواز سے درود پاک پڑھا اور جب اہل مجلس نے سنا تو انہوں نے بھی درود پاک پڑھا تو اللہ تعالٰی نے اس کی برکت سے ہم سب کو بخش دیا۔
(القول البدیع، ص 117)
درود و سلام
درود و سلام
حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں تو آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر بہت زیادہ درود شریف پڑھا کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) بتا دیجئے کہ دن کا کتنا حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر دوں ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جس قدر چاہو، مقرر کر لو۔ حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا کہ دن رات کا چوتھائی حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر لوں ؟ تو سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم جس قدر چاہو مقرر کر لو۔ اگر تم چوتھائی سے زیادہ حصہ مقرر کر لو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا کہ میں دن رات کا نصف حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر لوں ؟ تو حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جتنا چاہو مقرر کر لو اور اگر تم اس سے بھی زیادہ وقت مقرر کر لو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ تو حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے کہا کہ دن رات کا دو تہائی وقت مقرر کر لوں ؟ تو حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جتنا چاہو وقت مقرر کر لو اور اگر تم اس سے زیادہ وقت مقرر کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ تو حضرت ابی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا، “میں دن رات کا کُل حصہ درود خوانی ہی میں خرچ کروں گا۔“ تو سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر ایسا کرو گے تو درود شریف تمہاری تمام فکروں اور غموں کو دور کرنے کے لئے کافی ہو جائے گا اور تمہارے تمام گناہوں کیلئے کفارہ ہو جائے گا۔
حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں تو آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر بہت زیادہ درود شریف پڑھا کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) بتا دیجئے کہ دن کا کتنا حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر دوں ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جس قدر چاہو، مقرر کر لو۔ حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا کہ دن رات کا چوتھائی حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر لوں ؟ تو سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم جس قدر چاہو مقرر کر لو۔ اگر تم چوتھائی سے زیادہ حصہ مقرر کر لو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا کہ میں دن رات کا نصف حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر لوں ؟ تو حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جتنا چاہو مقرر کر لو اور اگر تم اس سے بھی زیادہ وقت مقرر کر لو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ تو حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے کہا کہ دن رات کا دو تہائی وقت مقرر کر لوں ؟ تو حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جتنا چاہو وقت مقرر کر لو اور اگر تم اس سے زیادہ وقت مقرر کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ تو حضرت ابی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا، “میں دن رات کا کُل حصہ درود خوانی ہی میں خرچ کروں گا۔“ تو سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر ایسا کرو گے تو درود شریف تمہاری تمام فکروں اور غموں کو دور کرنے کے لئے کافی ہو جائے گا اور تمہارے تمام گناہوں کیلئے کفارہ ہو جائے گا۔
ایک لاکھ ساٹھ ہزار حج کا ثواب
ایک لاکھ ساٹھ ہزار حج کا ثواب
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
الصلوٰۃ و السلام علیک یا نور اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
حضرت مولٰی علی (کرم اللہ وجہہ الکریم) سے روایت ہے، ایک دن سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ “جو شخص حجۃ الاسلام 1، سے مشرف ہو اور بعد اس کے ایک غزوہ میں شرکت کرے تو اس کا ثواب چار سو (400) حج کے برابر ہو گا۔“ وہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو حج کی استطاعت اور جہاد کی قوت نہ رکھتے تھے۔ یہ بات سن کر ان کے دل ٹوٹ گئے۔ کیونکہ وہ اس ثواب کو حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ رب العزت (جل جلالہ) کا دریائے رحمت جوش میں آیا۔ پیارے مصطفٰی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر وحی فرمائی، “اے محبوب ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) جو شخص تم پر درود بھیجے گا اس کو چار سو (400) غزوات کا ثواب ملے گا اور ہر غزوہ چار سو (400) حج کے برابر ہو گا۔“ (جذب القلوب)
سبحان اللہ (عزوجل) ! ایک بار دورد شریف پڑھنے کا ثواب چار سو (400) غزوات کے برابر اور ہر غزوہ چار سو حج کے برابر۔ چارسو کو چارسو سے ضَرب دینے سے حاصلِ ضَرب ایک لاکھ ساٹھ ہزار آیا ! الحمدللہ ! درود شریف پڑھنے سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار حج کا ثواب ملتا ہے۔ !!! واللہ ذوالفضل العظیم
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
الصلوٰۃ و السلام علیک یا نور اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاحبیب اللہ
حضرت مولٰی علی (کرم اللہ وجہہ الکریم) سے روایت ہے، ایک دن سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ “جو شخص حجۃ الاسلام 1، سے مشرف ہو اور بعد اس کے ایک غزوہ میں شرکت کرے تو اس کا ثواب چار سو (400) حج کے برابر ہو گا۔“ وہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو حج کی استطاعت اور جہاد کی قوت نہ رکھتے تھے۔ یہ بات سن کر ان کے دل ٹوٹ گئے۔ کیونکہ وہ اس ثواب کو حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ اللہ رب العزت (جل جلالہ) کا دریائے رحمت جوش میں آیا۔ پیارے مصطفٰی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر وحی فرمائی، “اے محبوب ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) جو شخص تم پر درود بھیجے گا اس کو چار سو (400) غزوات کا ثواب ملے گا اور ہر غزوہ چار سو (400) حج کے برابر ہو گا۔“ (جذب القلوب)
سبحان اللہ (عزوجل) ! ایک بار دورد شریف پڑھنے کا ثواب چار سو (400) غزوات کے برابر اور ہر غزوہ چار سو حج کے برابر۔ چارسو کو چارسو سے ضَرب دینے سے حاصلِ ضَرب ایک لاکھ ساٹھ ہزار آیا ! الحمدللہ ! درود شریف پڑھنے سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار حج کا ثواب ملتا ہے۔ !!! واللہ ذوالفضل العظیم
نورانی چہرہ
نورانی چہرہ
حضرت خواجہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے جب اس شخص کو واقعہ سنا جو اپنے باپ کے ساتھ سفر کر رہا تھا اور بوجہ سود خواری اس کے باپ کا چہرہ تبدیل ہو گیا تھا اور درود پاک کی برکت سے سید دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی اور دست رحمت پھیرنے سے چہرہ نورانی ہو گیا تھا۔ تو حضرت خواجہ نے اپنے شاگردوں کا حکم فرمایا کہ یہ واقعہ کتابوں میں لکھو اور حضور تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی امت کو سناؤ تاکہ درودپاک کی برکت سے دنیا و آخرت کے عذاب سے نجات حاصل کر سکیں۔
(معارج النبوۃ۔ ص 328 )
وسلامٌ علی المرسلین والحمدللہ رب العٰلمین
حضرت خواجہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے جب اس شخص کو واقعہ سنا جو اپنے باپ کے ساتھ سفر کر رہا تھا اور بوجہ سود خواری اس کے باپ کا چہرہ تبدیل ہو گیا تھا اور درود پاک کی برکت سے سید دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی اور دست رحمت پھیرنے سے چہرہ نورانی ہو گیا تھا۔ تو حضرت خواجہ نے اپنے شاگردوں کا حکم فرمایا کہ یہ واقعہ کتابوں میں لکھو اور حضور تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی امت کو سناؤ تاکہ درودپاک کی برکت سے دنیا و آخرت کے عذاب سے نجات حاصل کر سکیں۔
(معارج النبوۃ۔ ص 328 )
وسلامٌ علی المرسلین والحمدللہ رب العٰلمین
جنتی تاج
جنتی تاج
شیخ احمد بن منصور رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فوت ہوئے تو اہل شیراز میں سے کسی نے اس کو خواب میں دیکھا کہ وہ جامع شیراز کے محراب میں کھڑے ہیں اور انہوں نے بہترین حلہ زیب تن کیا ہوا ہے اور ان کے سر پر تاج ہے جو موتیوں سے مزین ہے۔
خواب دیکھنے والے نے پوچھا۔ حضرت ! کیا حال ہے ؟ فرمایا، اللہ تعالٰی نے مجھے بخش دیا، میرا اکرام فرمایا اور مجھے تاج پہنا کر جنت میں داخل کیا۔ پوچھا کس سبب سے ؟
تو جواب دیا، کہ میں نبی اکرم رسول محتشم شاہ بنی آدم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف کی کثرت کیا کرتا تھا اور یہی عمل کام آ گیا۔
(القول البدیع۔ ص 117
شیخ احمد بن منصور رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فوت ہوئے تو اہل شیراز میں سے کسی نے اس کو خواب میں دیکھا کہ وہ جامع شیراز کے محراب میں کھڑے ہیں اور انہوں نے بہترین حلہ زیب تن کیا ہوا ہے اور ان کے سر پر تاج ہے جو موتیوں سے مزین ہے۔
خواب دیکھنے والے نے پوچھا۔ حضرت ! کیا حال ہے ؟ فرمایا، اللہ تعالٰی نے مجھے بخش دیا، میرا اکرام فرمایا اور مجھے تاج پہنا کر جنت میں داخل کیا۔ پوچھا کس سبب سے ؟
تو جواب دیا، کہ میں نبی اکرم رسول محتشم شاہ بنی آدم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف کی کثرت کیا کرتا تھا اور یہی عمل کام آ گیا۔
(القول البدیع۔ ص 117
قبر کا بھیانک منظر
قبر کا بھیانک منظر
حضرت سیدنا شیخ ابو بکر شبلی جو سرکار غوث اعظم کے مشائخ میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں، میں نے اپنے ایک پڑوسی کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا، مافعل اللہ بک ؟ یعنی اللہ عزوجل نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟ کہنے لگا، عالی جاہ ! نہایت ہی خوفناک حالات سے دوچار ہوا۔ خصوصاً منکر نکیر کے سوالات کے جوابات کے وقت میں گھبرا گیا اور مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ کیا میرا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا ؟ اتنے میں ایک آواز گونج اٹھی، “دنیا میں زبان کا صحیح استعمال نہ کرنے کے سبب تجھ پر یہ مصیبت نازل ہو ہی ہے۔“
اب فرشتے مجھے عذاب دینے کے لئے بڑھے۔ اتنے میں ایک بزرگ جو معطر معطر اور حسن و جمال کا پیکر تھے میرے اور فرشتگان عذاب کے درمیان حائل ہو گئے انہوں نے نکیرین کے سوالات کے جوابات دینے میں میری مدد کی اور میں عذاب سے بچ گیا میں نے اپنے محسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے عرض کیا، اللہ عزوجل آپ پر رحم و کرم فرمائے آپ کون ہیں ؟ فرمایا، میں تیری کثرت درود کی برکت سے پیدا ہوا ہوں۔ مجھے قبر و حشر کے ہر مشکل مقام پر تیری مدد کرنے پر مامور کیا گیا ہے۔
(جذب القلوب ص 266)
(القول البدیع ص 121۔ سعادۃ الدارین ص 120)
حضرت سیدنا شیخ ابو بکر شبلی جو سرکار غوث اعظم کے مشائخ میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں، میں نے اپنے ایک پڑوسی کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا، مافعل اللہ بک ؟ یعنی اللہ عزوجل نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟ کہنے لگا، عالی جاہ ! نہایت ہی خوفناک حالات سے دوچار ہوا۔ خصوصاً منکر نکیر کے سوالات کے جوابات کے وقت میں گھبرا گیا اور مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ کیا میرا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا ؟ اتنے میں ایک آواز گونج اٹھی، “دنیا میں زبان کا صحیح استعمال نہ کرنے کے سبب تجھ پر یہ مصیبت نازل ہو ہی ہے۔“
اب فرشتے مجھے عذاب دینے کے لئے بڑھے۔ اتنے میں ایک بزرگ جو معطر معطر اور حسن و جمال کا پیکر تھے میرے اور فرشتگان عذاب کے درمیان حائل ہو گئے انہوں نے نکیرین کے سوالات کے جوابات دینے میں میری مدد کی اور میں عذاب سے بچ گیا میں نے اپنے محسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے عرض کیا، اللہ عزوجل آپ پر رحم و کرم فرمائے آپ کون ہیں ؟ فرمایا، میں تیری کثرت درود کی برکت سے پیدا ہوا ہوں۔ مجھے قبر و حشر کے ہر مشکل مقام پر تیری مدد کرنے پر مامور کیا گیا ہے۔
(جذب القلوب ص 266)
(القول البدیع ص 121۔ سعادۃ الدارین ص 120)
درود پاک پڑھنے کے آداب
درود پاک پڑھنے کے آداب
درود پاک پڑھنے والے کو چاہئیے کہ بادب ہوکر درود پاک پڑھے تاکہ دونوں جہانوں کی کامیابی اور سعادت حاصل ہو۔
ذیل میں چند آداب تحریر کئے جاتے ہیں۔
1۔ جسم پاک ہو، ظاہری نجاست اور بدبودار چیز سے جسم ملوث نہ ہو۔
2۔ لباس صاف ستھرا اور پاک ہو۔
3۔ مکان یا جس جگہ پر درود پاک پڑھا جائے، وہ پاک ہو۔
4۔ باوُضو درود پاک پڑھا جائے۔
5۔ درود پاک پڑھنے والا خوشبو لگائے یا اگربتی وغیرہ سلگائے۔
6۔ قبلہ رُو ہو کر دوزانو بیٹھ کر درود پاک پڑھے۔
7۔ درود پاک کے معانی سمجھ کر پڑھے۔
8۔ اخلاص یعنی اللہ عزوجل کے حکم کی تعمیل اور رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور عظمت کی نیت سے پڑھے۔ باقی دین و دنیا کے تمام کام اللہ عزوجل کے سُپرد کرے۔
9۔ درود پاک پڑھتے وقت دنیا کی باتیں نہ کریں۔ سنت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیروی اور شریعت مطاہرہ کی پابندی رکھے منہیات سے بچے۔ حرام اور مشتبہ کھانے سے پرہیز کرے۔
10۔ درود شریف پڑھتے وقت یہ تصور کرے کہ شاہ کونین، امت کے والی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میرا درود شریف سُن رہے ہیں۔ اس لئے بعض بزرگان دین نے فرمایا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ تعالٰی کی عطا سے) حاضر و ناظر جان کر دورد پاک پڑھے۔
11۔ جب کبھی سیدالمرسلین، رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام پاک سنے تو درود پاک پڑھے۔ کم از کم اتنا کہہ لے صلی اللہ علیہ وسلم اور محبت سے انگوٹھوں کے ناخنوں کو بوسہ دے کر آنکھوں پر لگائے۔ اگرچہ یہ فرض و واجب نہیں لیکن باعث صد برکات ہے۔ اصل میں یہ محبت کا سودا ہے۔ جس کے دل میں رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہوگی، وہ اس فعل سے انکار نہیں کرے گا اور اگر کسی کا دل محبت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے خالی ہو تو اس کا کیا علاج ؟
12۔ جب درود پاک کا وظیفہ پڑھ کر فارغ ہو تو اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرے۔ کم از کم اتنا کہہ لے وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العلمین ط
13۔ درود پاک باہر مجبوی لیٹ کر بھی پڑھا جا سکتا ہے لیکن اس حالت میں ٹانگیں سمیٹ لینی چاہئیے۔
14۔ جہاں کہیں رحمت دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی آئے تو لفظ “سیدنا“ کا اضافہ کرے۔ اگرچہ کتاب میں لکھا ہوا نہ ہو۔
ایک مرتبہ ایک تُرکی نوجوان حضرت شیخ الدلائل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور “دلائل الخیرات“ پڑھنے لگا۔ جہاں کہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام پاک آتا، وہ سیدنا نہیں کہتا تھا۔
حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا۔ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے نام مبارک کے ساتھ سیدنا بھی کہہ ! اس نے کہا کہ جب کتاب میں سیدنا نہیں لکھا تو میں کیوں کہوں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے ہر طرح سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ رات جب وہ ترکی مرد سو گیا تو دیکھا کہ عالم رؤیاء میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور اس کے پیٹ پر خنجر رکھ دیا اور پوچھا۔ “بتا تو سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اسم پاک کے ساتھ “سیدنا“ کہے گا یا نہیں۔ ؟
وہ تو سیدالعالمین ہیں تو کس گنتی میں ہے۔ (وہ تو جنوں کے بھی سردار ہیں، انسانوں کے بھی، وہ خاکیوں کے بھی سردار ہیں تو نوریوں کے بھی)
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
درود پاک پڑھنے والے کو چاہئیے کہ بادب ہوکر درود پاک پڑھے تاکہ دونوں جہانوں کی کامیابی اور سعادت حاصل ہو۔
ذیل میں چند آداب تحریر کئے جاتے ہیں۔
1۔ جسم پاک ہو، ظاہری نجاست اور بدبودار چیز سے جسم ملوث نہ ہو۔
2۔ لباس صاف ستھرا اور پاک ہو۔
3۔ مکان یا جس جگہ پر درود پاک پڑھا جائے، وہ پاک ہو۔
4۔ باوُضو درود پاک پڑھا جائے۔
5۔ درود پاک پڑھنے والا خوشبو لگائے یا اگربتی وغیرہ سلگائے۔
6۔ قبلہ رُو ہو کر دوزانو بیٹھ کر درود پاک پڑھے۔
7۔ درود پاک کے معانی سمجھ کر پڑھے۔
8۔ اخلاص یعنی اللہ عزوجل کے حکم کی تعمیل اور رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور عظمت کی نیت سے پڑھے۔ باقی دین و دنیا کے تمام کام اللہ عزوجل کے سُپرد کرے۔
9۔ درود پاک پڑھتے وقت دنیا کی باتیں نہ کریں۔ سنت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیروی اور شریعت مطاہرہ کی پابندی رکھے منہیات سے بچے۔ حرام اور مشتبہ کھانے سے پرہیز کرے۔
10۔ درود شریف پڑھتے وقت یہ تصور کرے کہ شاہ کونین، امت کے والی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میرا درود شریف سُن رہے ہیں۔ اس لئے بعض بزرگان دین نے فرمایا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ تعالٰی کی عطا سے) حاضر و ناظر جان کر دورد پاک پڑھے۔
11۔ جب کبھی سیدالمرسلین، رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام پاک سنے تو درود پاک پڑھے۔ کم از کم اتنا کہہ لے صلی اللہ علیہ وسلم اور محبت سے انگوٹھوں کے ناخنوں کو بوسہ دے کر آنکھوں پر لگائے۔ اگرچہ یہ فرض و واجب نہیں لیکن باعث صد برکات ہے۔ اصل میں یہ محبت کا سودا ہے۔ جس کے دل میں رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہوگی، وہ اس فعل سے انکار نہیں کرے گا اور اگر کسی کا دل محبت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے خالی ہو تو اس کا کیا علاج ؟
12۔ جب درود پاک کا وظیفہ پڑھ کر فارغ ہو تو اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرے۔ کم از کم اتنا کہہ لے وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العلمین ط
13۔ درود پاک باہر مجبوی لیٹ کر بھی پڑھا جا سکتا ہے لیکن اس حالت میں ٹانگیں سمیٹ لینی چاہئیے۔
14۔ جہاں کہیں رحمت دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی آئے تو لفظ “سیدنا“ کا اضافہ کرے۔ اگرچہ کتاب میں لکھا ہوا نہ ہو۔
ایک مرتبہ ایک تُرکی نوجوان حضرت شیخ الدلائل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور “دلائل الخیرات“ پڑھنے لگا۔ جہاں کہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام پاک آتا، وہ سیدنا نہیں کہتا تھا۔
حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا۔ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے نام مبارک کے ساتھ سیدنا بھی کہہ ! اس نے کہا کہ جب کتاب میں سیدنا نہیں لکھا تو میں کیوں کہوں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے ہر طرح سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ رات جب وہ ترکی مرد سو گیا تو دیکھا کہ عالم رؤیاء میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور اس کے پیٹ پر خنجر رکھ دیا اور پوچھا۔ “بتا تو سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اسم پاک کے ساتھ “سیدنا“ کہے گا یا نہیں۔ ؟
وہ تو سیدالعالمین ہیں تو کس گنتی میں ہے۔ (وہ تو جنوں کے بھی سردار ہیں، انسانوں کے بھی، وہ خاکیوں کے بھی سردار ہیں تو نوریوں کے بھی)
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
درود شریف پڑھنے کے فضائل

1۔ ایک بار درود پاک پڑھنے سے دس گناہ معاف ہوتے ہیں۔ دس نیکیاں لکھتی جاتی ہیں، دس درجے بلند ہوتے، دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
2۔ دورد پاک پڑھنے والے کی دعاء قبول ہوتی ہے۔
3۔ درود پاک پڑھنے والے کا کندھا جنت کے دروازے پر حضور تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے کندھے مبارک کے ساتھ چھو جائے گا۔
4۔ درود پاک پڑھنے والا قیامت کے دن سب سے پہلے آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ جائے گا۔
5۔ درود پاک پڑھنے والے کے سارے کاموں کے لئے قیامت کے دن حضور سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ذمہ دار ہو جائیں گے۔
6۔ درود پاک پڑھنے سے دل کی صفائی حاصل ہوتی ہے۔
7۔ درود پاک پڑھنے والے کو جانکنی میں آسانی ہوتی ہے۔
8۔ جس مجلس میں درود پاک پڑھا جائے، اس مجلس کو فرشتے رحمت سے گھیر لیتے ہیں۔
9۔ درود پاک پڑھنے سے سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبت بڑھتی ہے۔
10۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم خود دورد شریف پڑھنے والے سے محبت فرماتے ہیں۔
11۔ قیامت کے دن سید دو عالم نور مجسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم درود پاک پڑھنے والے سے مصافحہ فرمائیں گے۔
12۔ فرشتے درود پاک پڑھنے والے کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔
13۔ فرشتے درود پاک پڑھنے والے کے درود شریف کو سونے سے قلموں سے چاندی کے کاغذوں پر لکھتے ہیں۔
14۔ درود پاک پڑھنے واکے کا درود شریف دربار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں لے جا کر یوں عرض کرتے ہیں۔ “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! فلاں کے بیٹے نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں درود پاک کا تحفہ حاضر کیا ہے۔“
15۔ درود پاک پڑھنے والے کا تین دن تک فرشتے گناہ نہیں لکھتے۔ (جذب القلوب۔ ص 253)
درود و سلام
درود و سلام
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے فضائل و فوائد بے شمار ہیں۔ جن کا احاطہ بشری طاقت سے باہر ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار رحمت نازل فرماتا ہے۔
حضرت عُمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں دعاء آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے چڑھ نہیں سکتی جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے۔
درمختار میں بروایت اصبہانی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے اور وہ قبول ہو جائے تو اللہ تعالٰی اس کے اسّی برس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ (بہارِ شریعت)
کنزالعمال میں حضرت انس سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی دن مجھ پر ایک ہزار بار دورد پڑھے وہ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا محل دیکھ لے۔ (برکات درود و سلام)
یعنی جو جس قدر دورد و سلام کے تحفے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے اتنی ہی کامیابیوں سے سرفراز بھی فرماتا ہے۔ شہد میں مٹھاس نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے ہی کی برکت سے آٹی ہے۔ نماز کا آغاز جہاں خدا کی حمد سے کیا جاتا ہے وہیں اختتام اس جانِ ایمان صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھ کر کیا جاتا ہے۔ تاکہ نماز اور نمازی کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے اور سب سے بڑی دولت جو حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب درود و سلام پڑھنے والا صدق دل اور حسن عمل کے ساتھ درود و سلام کا التزام کرتا ہے۔ تو اسے آقائے کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیدار پُر بہار سے مشرف فرمایا جاتا ہے جو دولت دنیا و مافیہا کی بازی لگا کر بھی نہیں پائی جا سکتی۔
سرور القلوب میں حضرت مفتی نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ رقم طراز ہیں۔ کہ علماء راسخین اور ائمہ دین فرماتے ہیں ایک درود دنیا و مافیہا سے بہتر اور دونوں جہاں کیلئے کافی ہے۔ اس کا ثواب ہزار سالہ طاعت کے ثواب سے زیادہ اور اس کا رتبہ اکثر عبادات بدنیہ، مالیہ اور قولیہ سے اعلٰی ہے۔ یہ فضل و کرم اور سعادت و عنایت حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہی کی بدولت اس اُمت بابرکت کو نصیب ہے۔ (برکات درود و سلام)
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے فضائل و فوائد بے شمار ہیں۔ جن کا احاطہ بشری طاقت سے باہر ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار رحمت نازل فرماتا ہے۔
حضرت عُمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں دعاء آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے چڑھ نہیں سکتی جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے۔
درمختار میں بروایت اصبہانی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے اور وہ قبول ہو جائے تو اللہ تعالٰی اس کے اسّی برس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ (بہارِ شریعت)
کنزالعمال میں حضرت انس سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی دن مجھ پر ایک ہزار بار دورد پڑھے وہ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا محل دیکھ لے۔ (برکات درود و سلام)
یعنی جو جس قدر دورد و سلام کے تحفے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے اتنی ہی کامیابیوں سے سرفراز بھی فرماتا ہے۔ شہد میں مٹھاس نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے ہی کی برکت سے آٹی ہے۔ نماز کا آغاز جہاں خدا کی حمد سے کیا جاتا ہے وہیں اختتام اس جانِ ایمان صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھ کر کیا جاتا ہے۔ تاکہ نماز اور نمازی کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے اور سب سے بڑی دولت جو حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب درود و سلام پڑھنے والا صدق دل اور حسن عمل کے ساتھ درود و سلام کا التزام کرتا ہے۔ تو اسے آقائے کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیدار پُر بہار سے مشرف فرمایا جاتا ہے جو دولت دنیا و مافیہا کی بازی لگا کر بھی نہیں پائی جا سکتی۔
سرور القلوب میں حضرت مفتی نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ رقم طراز ہیں۔ کہ علماء راسخین اور ائمہ دین فرماتے ہیں ایک درود دنیا و مافیہا سے بہتر اور دونوں جہاں کیلئے کافی ہے۔ اس کا ثواب ہزار سالہ طاعت کے ثواب سے زیادہ اور اس کا رتبہ اکثر عبادات بدنیہ، مالیہ اور قولیہ سے اعلٰی ہے۔ یہ فضل و کرم اور سعادت و عنایت حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہی کی بدولت اس اُمت بابرکت کو نصیب ہے۔ (برکات درود و سلام)
درود شریف کے فضائل
درود شریف کے فضائل
دورد پاک پڑھنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ جن میں سے کچھ بزرگان دین نے اپنی اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں۔ مثلاً علامہ امام حافظ الحدیث شمس الدین سخاوی قدس سرہ نے “القول البدیع“ میں لکھے ہیں۔ ان میں سے چند یہاں سپرد قلم کئے جاتے ہیں۔
القول البدیع میں درود شریف کے فوائد
1۔ حبیب خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھنے والے پر اللہ عزوجل درود بھیجتا ہے۔ ایک کے بدلے ایک نہیں بلکہ ایک کے بدلے کم از کم دس۔
2۔ جب تک بندہ درود پاک پڑھتا ہے، فرشتے رحمت اور بخشش کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
3۔ درود پاک گناہوں کا کفارہ ہے۔
4۔ درود پاک پڑھنے سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
5۔ درود پاک پڑھنے والا ہر قسم کے ہولوں سے نجات پاتا ہے۔
6۔ درود پاک پڑھنے والا اللہ تعالٰی کے غضب سے امان لکھ دیا جاتا ہے۔
7۔ اس کی پیشانی پر لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ نفاق سے بَری ہے۔
8۔ اور لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ دوزخ سے بَری ہے۔
9۔ درود پاک پڑھنے والے کے لئے ایک قیراط ثواب لکھا جاتا ہے جو کہ احد پہاڑ جتنا ہے۔
10۔ درود پاک پڑھنے والے کے لئے سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
11۔ جو شخص درود پاک کو ہی وظیفہ بنالے، اس کے دنیا اور آخرت کے سارے سارے کام خود اللہ تعالٰی اپنے ذمے لے لیتا ہے۔
12۔ درود شریف پڑھنے والے کے لئے نیکیوں کا پلڑا وزنی ہوگا۔
13۔ درود پاک پڑھنے والا کل سخت پیاس کے دن امان میں رہے گا۔
14۔ پل صراط پر سے نہایت آسانی اور تیزی سے گزر جائے گا۔
15۔ پل صراط پر درود پاک پڑھنے کو نور عطا ہوگا۔
16۔ درود پاک پڑھنے والا موت سے پہلے اپنا مقام جنت میں دیکھ لیتا ہے۔
17۔ درود پاک کی برکت سے مال بڑھتا ہے۔
18۔ درود پاک تنگدستی کو دور کرتا ہے۔
19۔ درود پاک مجلسوں کی زینت ہے۔
20۔ درود پاک پڑھنے والا قیامت کے دن سب لوگوں سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زیادہ قریب ہوگا۔
21۔ درود پاک پڑھنے والے کو قیامت کے دن عرش الٰہی کے سائے کے نیچے جگہ دی جائے گی۔
22۔ درود پاک پڑھنے والے کے لئے جب وہ حوض کوثر پر جائے گا، خصوصی عنایت ہوگی۔
23۔ درود پاک، پڑھنے والے اور اس کی اولاد کو اور اس کی اولاد کو فائدہ دیتا ہے۔
24۔ درود پاک پڑھ کر جس کو بخشا جائے، اسے بھی نفع دیتا ہے۔
25۔ درود پاک پڑھنے سے دشمنوں پر فتح و نصرت حاصل ہوتی ہے۔
26۔ درود پاک پڑھنے والے کا دل زنگار سے پاک ہو جاتا ہے۔
27۔ درود پاک پڑھنے والے سے اعمال پاک ہو جاتے ہیں۔
28۔ درود پاک پڑھنے والے سے لوگ محبت کرتے ہیں۔
29۔ درود پاک پڑھنے والا لوگوں کی غیبت سے محفوظ رہتا ہے۔
30۔ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم درود پاک پڑھنے والے کی گواہی دیں گے۔
31۔ سب سے بڑی نعمت یہ کہ درود پاک پڑھنے والے کو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوگی۔ (القول البدیع)
دورد پاک پڑھنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ جن میں سے کچھ بزرگان دین نے اپنی اپنی کتابوں میں بیان کئے ہیں۔ مثلاً علامہ امام حافظ الحدیث شمس الدین سخاوی قدس سرہ نے “القول البدیع“ میں لکھے ہیں۔ ان میں سے چند یہاں سپرد قلم کئے جاتے ہیں۔
القول البدیع میں درود شریف کے فوائد
1۔ حبیب خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھنے والے پر اللہ عزوجل درود بھیجتا ہے۔ ایک کے بدلے ایک نہیں بلکہ ایک کے بدلے کم از کم دس۔
2۔ جب تک بندہ درود پاک پڑھتا ہے، فرشتے رحمت اور بخشش کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
3۔ درود پاک گناہوں کا کفارہ ہے۔
4۔ درود پاک پڑھنے سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
5۔ درود پاک پڑھنے والا ہر قسم کے ہولوں سے نجات پاتا ہے۔
6۔ درود پاک پڑھنے والا اللہ تعالٰی کے غضب سے امان لکھ دیا جاتا ہے۔
7۔ اس کی پیشانی پر لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ نفاق سے بَری ہے۔
8۔ اور لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ دوزخ سے بَری ہے۔
9۔ درود پاک پڑھنے والے کے لئے ایک قیراط ثواب لکھا جاتا ہے جو کہ احد پہاڑ جتنا ہے۔
10۔ درود پاک پڑھنے والے کے لئے سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
11۔ جو شخص درود پاک کو ہی وظیفہ بنالے، اس کے دنیا اور آخرت کے سارے سارے کام خود اللہ تعالٰی اپنے ذمے لے لیتا ہے۔
12۔ درود شریف پڑھنے والے کے لئے نیکیوں کا پلڑا وزنی ہوگا۔
13۔ درود پاک پڑھنے والا کل سخت پیاس کے دن امان میں رہے گا۔
14۔ پل صراط پر سے نہایت آسانی اور تیزی سے گزر جائے گا۔
15۔ پل صراط پر درود پاک پڑھنے کو نور عطا ہوگا۔
16۔ درود پاک پڑھنے والا موت سے پہلے اپنا مقام جنت میں دیکھ لیتا ہے۔
17۔ درود پاک کی برکت سے مال بڑھتا ہے۔
18۔ درود پاک تنگدستی کو دور کرتا ہے۔
19۔ درود پاک مجلسوں کی زینت ہے۔
20۔ درود پاک پڑھنے والا قیامت کے دن سب لوگوں سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زیادہ قریب ہوگا۔
21۔ درود پاک پڑھنے والے کو قیامت کے دن عرش الٰہی کے سائے کے نیچے جگہ دی جائے گی۔
22۔ درود پاک پڑھنے والے کے لئے جب وہ حوض کوثر پر جائے گا، خصوصی عنایت ہوگی۔
23۔ درود پاک، پڑھنے والے اور اس کی اولاد کو اور اس کی اولاد کو فائدہ دیتا ہے۔
24۔ درود پاک پڑھ کر جس کو بخشا جائے، اسے بھی نفع دیتا ہے۔
25۔ درود پاک پڑھنے سے دشمنوں پر فتح و نصرت حاصل ہوتی ہے۔
26۔ درود پاک پڑھنے والے کا دل زنگار سے پاک ہو جاتا ہے۔
27۔ درود پاک پڑھنے والے سے اعمال پاک ہو جاتے ہیں۔
28۔ درود پاک پڑھنے والے سے لوگ محبت کرتے ہیں۔
29۔ درود پاک پڑھنے والا لوگوں کی غیبت سے محفوظ رہتا ہے۔
30۔ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم درود پاک پڑھنے والے کی گواہی دیں گے۔
31۔ سب سے بڑی نعمت یہ کہ درود پاک پڑھنے والے کو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوگی۔ (القول البدیع)



بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جو کوئی یہ درود پاک شب جمعہ (جمعرات و جمعہ کی درمیانی رات) کو یہ پابندی سے کم از کم ایک مرتبہ پڑھے گا موت کے وقت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرے گا اور قبر میں داخل ہوتے وقت بھی دیکھے گا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے قبر میں اپنے رحمت بھرے ہاتھوں سے اتار رہے ہیں۔
سبحان اللہ عزوجل!
سبحان اللہ عزوجل!





























نبی
کے عاشقوں کی عید ہوگی عید محشر میں
کوئی قدموں میں ہوگا کوئی سینے سے لگا ہوگا
کوئی قدموں میں ہوگا کوئی سینے سے لگا ہوگا








چار فرشتوں کا کرم
ایک مرتبہ اللہ عزوجل کے چاروں مقرب فرشتے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا جبریل امین نے عرض کیا، یارسول اللہ آپ پر جو دس بار درود شریف پڑھے گا اسے پُل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزار دوں گا۔ سیدنا میکائیل نے عرض کیا، میں اسے حوض کوثر پر پہنچا کر سیراب کروں گا۔ سیدنا اسرافیل نے عرض کیا میں بارگاہ رب العزت جل جلالہ میں اس وقت تک پڑا رہوں گا جب تک اس کی بخشش نہ ہو جائے۔
ملک الموت سیدنا عزرائیل نے عرض کیا میں اس کی روح اس قدر آسانی سے قبض کروں گا جس طرح انبیائے کرام کی روح نکالتا ہوں۔ (شفاء القلوب)
ملک الموت سیدنا عزرائیل نے عرض کیا میں اس کی روح اس قدر آسانی سے قبض کروں گا جس طرح انبیائے کرام کی روح نکالتا ہوں۔ (شفاء القلوب)

دوست دشمن ہو گئے یا مصطفٰے
بیکس و بیچارہ ہوں کر دو کرم
بیکس و بیچارہ ہوں کر دو کرم



دس ہزاری دورد شریف
اَللّٰھُمَ صَلِ عَلٰی سَیِدِ نَا مُحَمَّدٍ مَا اختَلَفَ المَلَوَانِ وَتَعَاقَبَ العَصرَانِ وَ کَرَّ الجَدِیدَانِ وَاستَقَلَّ الفَرقَدَانِ وَ بَلِغ رُوحَہ وَاَروَاحَ اَھلِبَیتِہ مِنَّا التَّحِیَّۃَ وَ السَّلاَمَ وَبَارِک وَ سَلِم عَلَیہِ کَثِیراً۔
ترجمہ:۔ اے اللہ عزوجل ہمارے سردار محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر دُرود بھیج جب تک کہ دن گردش میں رہیں اور باری باری آئیں صبح و شام، اور باری باری آئیں دن رات، اور جب تک کہ دو ستارے بُلند ہیں۔ اور ہماری طرف سے آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی اور اہلبیت (رضوان اللہ تعالٰی علیھم اجمعین) کی ارواح کو سلام پہنچا اور برکت دے اور ان پر بہت سلام بھیج۔
الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ و السلام علی سید المرسلین امابعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ط بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط
محمود غزنوی کی بارگاہ رسالت میں مقبولیت
محمود غزنوی کی بارگاہ رسالت میں مقبولیت
(محمود غزنوی علیہ رحمۃ القوی دسویں صدی عیسوی میں غزنی کے بہت بڑے بہادر اور عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم بادشاہ گزرے ہیں ان کا نام سلطان ناصر الدین ابن سبکتگین تھا، انہوں نے کافی فتوحات حاصل کیں یہاں تک کہ ہندوستان پر 22 بار حملے کئے اور زبردست کامیابیاں حاصل کیں۔)
حضرت سلطان محمود غزنوی علیہ رحمۃ القوی کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں مُدت مدید سے حبیب رب مجید عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دید کی عید سعید کا آرزو مند تھا قسمت سے گزشتہ رات سرور کائنات، شاہ موجودات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت ملی۔ حضور مفیض النور، شاہ غیور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو مسرور پاکر عرض کی، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! میں ایک ہزار درہم کا مقروض ہوں، اس کی ادائیگی سے عاجز ہوں اور ڈرتا ہوں کہ اگر اسی حالت میں مر گیا تو بار قرض میری گردن پر ہوگا۔ رحمت عالم، نور مجسم، شاہ بنی آدم، رسول محتشم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ محمود سبکتگین کے پاس جاؤ وہ تمہارا قرض اتار دے گا۔ میں نے عرض کی، وہ کیسے اعتماد کریں گے ؟ اگر اُن کیلئے کوئی نشانی عنایت فرما دی جائے تو کرم بالائے کرم ہوگا۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جاکر اس سے کہو، اے محمود ! تم رات کے اول حصے میں تیس ہزار (30000) ہزار بار درود پڑھتے ہو اور پھر بیدار ہو کر رات کے آخرے حصے میں مذید تیس ہزار (30000) بار پڑھتے ہو۔ اس نشانی کے بتانے سے (انشاءاللہ عزوجل) وہ تمہارا قرض اُتار دے گا۔ سلطان محمود علیہ رحمۃ اللہ الودود نے جب شاہ خیرالانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا رحمتوں بھرا پیغام سنا تو رونے لگا اور تصدیق کرتے ہوئے اُس کا قرض اُتار دیا اور ایک ہزار درہم مذید پیش کئے۔ وزراء وغیرہ متعجب ہو کر عرض گزار ہوئے ! عالیجاہ اس شخص نے ایک ناممکن سی بات بتائی ہے اور آپ نے بھی اس کی تصدیق فرمادی حالانکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں آپ نے کبھی اتنی تعداد میں درود شریف پڑھا ہی نہیں اور نہ ہی کوئی آدمی رات بھر میں ساٹھ ہزار (60000) بار درود شریف پڑھ سکتا ہے۔ سلطان محمود علیہ رحمۃ اللہ الودود نے فرمایا ! تم سچ کہتے ہو لیکن میں نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ جو شخص دس ہزاری دورد شریف ایک بار پڑھ لے اُس نے گویا دس ہزار بار دورد شریف پڑھے۔ میں تین بار اول شب میں اور تین بار آخر شب میں دس ہزاری درود شریف پڑھ لیتا ہوں۔ اس طرح سے میرا گمان تھا کہ میں ہر رات ساٹھ ہزار بار درود شریف پڑھتا ہوں۔ جب اس خوش نصیب عاشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے شاہ خیر الانام صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا رحمتوں بھرا پیام پہنچایا، مجھے اس دن ہزاری درود شریف کی تصدیق ہو گئی، اور گریہ کرنا (یعنی رونا) اس خوشی سے تھا کہ عُلمائے کرام کا فرمان صحیح ثابت ہوا کہ رسول غیب دان، رحمت عالمیان صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس
پر گواہی دی ہے۔ (ملخص از:۔ تفسیر روح البیان ج7
میت کو خواب میں دیکھنے کا عمل
ایک عورت نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری بیٹی فوت ہو گئی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواب میں اس کے ساتھ ملاقات ہو جائے۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا۔ “نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل پڑھ اور ہر رکعت میں فاتحہ شریف کے بعد سورہ تکاثر ایک مرتبہ پڑھ کر لیٹ جا اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتی سو جا ! “
اس عورت نے ایسا ہی کیا جب سو گئی تو اس نے خواب میں اپنی لڑکی کو دیکھا کہ وہ عذاب میں مبتلا ہے۔ اسے گندھک کا لباس پہنا کر ہاتھوں میں آگ کی ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنا دی گئی ہیں۔
وہ گھبرا کر بیدار ہوئی اور خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا۔ آپ نے سن کر فرمایا، کچھ صدقہ کر ! شاید اللہ تعالٰی اس کو معاف کردے۔ زاں بعد حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک باغ جس میں ایک تخت بچھا ہوا ہے۔ اس پر ایک لڑکی بیٹھی ہوئی اور اس کے سر پر نورانی تاج ہے۔ اس نے دیکھ کر عرض کی، حضرت ! آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ خواجہ حسن نے فرمایا۔ نہیں۔
یہ سن کر لڑکی نے عرض کی حضرت ! جیسے میری والدہ نے بیان کیا تھا، اس طرح صرف میری حالت ہی نہیں بلکہ اس قبرستان میں ستر ہزار مُردہ تھا جن کو عذاب ہو رہا تھا۔ ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ہمارے قبرستان کے پاس سے ایک عاشق رسول گزرا اور اس نے درود شریف پڑھ کر ثواب ہمیں بخش دیا تو اللہ عزوجل نے اس دردو شریف کو قبول فرما کر ہم سب پر رحمت فرمائی اور عذاب سے نجات مل گئی اور سب کو یہ انعام و اکرام عطا فرمایا۔ جو آپ مجھ پر دیکھ رہے ہیں۔
(القول البدیع۔ ص 131 نزہتہ المجالس، ص 32۔ سعادۃ الدارین، ص 122)
ایک عورت نے حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری بیٹی فوت ہو گئی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواب میں اس کے ساتھ ملاقات ہو جائے۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا۔ “نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل پڑھ اور ہر رکعت میں فاتحہ شریف کے بعد سورہ تکاثر ایک مرتبہ پڑھ کر لیٹ جا اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتی سو جا ! “
اس عورت نے ایسا ہی کیا جب سو گئی تو اس نے خواب میں اپنی لڑکی کو دیکھا کہ وہ عذاب میں مبتلا ہے۔ اسے گندھک کا لباس پہنا کر ہاتھوں میں آگ کی ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں پہنا دی گئی ہیں۔
وہ گھبرا کر بیدار ہوئی اور خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا۔ آپ نے سن کر فرمایا، کچھ صدقہ کر ! شاید اللہ تعالٰی اس کو معاف کردے۔ زاں بعد حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک باغ جس میں ایک تخت بچھا ہوا ہے۔ اس پر ایک لڑکی بیٹھی ہوئی اور اس کے سر پر نورانی تاج ہے۔ اس نے دیکھ کر عرض کی، حضرت ! آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ خواجہ حسن نے فرمایا۔ نہیں۔
یہ سن کر لڑکی نے عرض کی حضرت ! جیسے میری والدہ نے بیان کیا تھا، اس طرح صرف میری حالت ہی نہیں بلکہ اس قبرستان میں ستر ہزار مُردہ تھا جن کو عذاب ہو رہا تھا۔ ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ ہمارے قبرستان کے پاس سے ایک عاشق رسول گزرا اور اس نے درود شریف پڑھ کر ثواب ہمیں بخش دیا تو اللہ عزوجل نے اس دردو شریف کو قبول فرما کر ہم سب پر رحمت فرمائی اور عذاب سے نجات مل گئی اور سب کو یہ انعام و اکرام عطا فرمایا۔ جو آپ مجھ پر دیکھ رہے ہیں۔
(القول البدیع۔ ص 131 نزہتہ المجالس، ص 32۔ سعادۃ الدارین، ص 122)
Subscribe to:
Posts (Atom)