Saturday, November 20, 2010

درود و سلام

درود و سلام

نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے فضائل و فوائد بے شمار ہیں۔ جن کا احاطہ بشری طاقت سے باہر ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار رحمت نازل فرماتا ہے۔

حضرت عُمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں دعاء آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے چڑھ نہیں سکتی جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
پر درود نہ بھیجا جائے۔

درمختار میں بروایت اصبہانی انس
رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے اور وہ قبول ہو جائے تو اللہ تعالٰی اس کے اسّی برس کے گناہ معاف فرما دے گا۔
(بہارِ شریعت)

کنزالعمال
میں حضرت انس سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی دن مجھ پر ایک ہزار بار دورد پڑھے وہ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا محل دیکھ لے۔ (برکات درود و سلام)

یعنی جو جس قدر دورد و سلام کے تحفے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے اتنی ہی کامیابیوں سے سرفراز بھی فرماتا ہے۔ شہد میں مٹھاس نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے ہی کی برکت سے آٹی ہے۔ نماز کا آغاز جہاں خدا کی حمد سے کیا جاتا ہے وہیں اختتام اس جانِ ایمان صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھ کر کیا جاتا ہے۔ تاکہ نماز اور نمازی کو شرف قبولیت حاصل ہو جائے اور سب سے بڑی دولت جو حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب درود و سلام پڑھنے والا صدق دل اور حسن عمل کے ساتھ درود و سلام کا التزام کرتا ہے۔ تو اسے آقائے کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیدار پُر بہار سے مشرف فرمایا جاتا ہے جو دولت دنیا و مافیہا کی بازی لگا کر بھی نہیں پائی جا سکتی۔

سرور القلوب میں حضرت مفتی نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ رقم طراز ہیں۔ کہ علماء راسخین اور ائمہ دین فرماتے ہیں ایک درود دنیا و مافیہا سے بہتر اور دونوں جہاں کیلئے کافی ہے۔ اس کا ثواب ہزار سالہ طاعت کے ثواب سے زیادہ اور اس کا رتبہ اکثر عبادات بدنیہ، مالیہ اور قولیہ سے اعلٰی ہے۔ یہ فضل و کرم اور سعادت و عنایت حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہی کی بدولت اس اُمت بابرکت کو نصیب ہے۔ (برکات درود و سلام)

No comments:

Post a Comment