Saturday, November 20, 2010

درود پاک کی کثرت

درود پاک کی کثرت


حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ) فرماتے ہیں :-
“مومن صادق اور محب مشتاق پر لازم ہے کہ درود شریف کی کثرت کرے اور دوسرے اعمال پر اسے مقدم (بڑھ کر) جاننے میں کمی نہ کرے۔ جس قدر عدد مخصوص کر سکے۔ اور پھر اس مقررہ عدد کو روزانہ کا ورد بنائے۔ کیونکہ
“نورد خیرالعمل او ورد قلیل دائم خیر من کثیر منقطع “
یعنی اچھے عمل کا ورد اگرچہ تھوڑا ہو، ہمیشگی کے ساتھ کرے تو بہتر ہے اس عمل سے جو زیادہ تو ہو مگر اس پر مُداد مت نہ ہو۔
اور مذید فرماتے ہیں، اس مومن پر نہایت تعجب ہے کہ وہ دن اور رات کی ساعات (گھڑیوں) میں سے ایک گھڑی بھی اس عبادت پر صَرف نہ کرے جو منبع انوار و برکات اور تمام بھلائیوں اور سعادتوں کے دروازے کھولنے والی ہے۔ وہ بھی تو ایک عاشق تھا جس نے عرض کیا تھا، “اجعل لک صلوٰتی کلھا“ یعنی یارسول اللہ ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں اپنا سارا وقت درود شریف میں گزارا کروں گا۔ اور اس پر سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت مرحمت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا، “یکفی ھمک“ یعنی یہ تیرے غموں کو کفایت کرے گا۔ اور فرماتے ہیں، اہل سلوک کے لئے درود شریف کا درد فتوحات عظیمہ کا سبب ہے اور بعض مشائخ (رحمھہ اللہ) نے فرمایا ہے کہ مرشد کامل نہ ملنے کی صورت میں درود شریف کا التزام کر لے کہ یہ طالب کے لئے موجب موصل ہے۔ (یعنی درود شریف اللہ تعالٰی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔)
مذید فرمایا کہ مشائخ کرام (رحمھم اللہ) فرماتے ہیں کہ کثرت درود شریف سے ہمیں سرکار مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت حاصل ہوتی ہے۔ اور جو شخص آنحضرت (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ستودہ صفات پر کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے اسے شاہ مدینہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت خواب بلکہ بیداری میں حاصل ہوگی۔“ انشاءاللہ عزوجل
(جذب القلوب)

No comments:

Post a Comment