درود و سلام
حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) میں تو آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر بہت زیادہ درود شریف پڑھا کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) بتا دیجئے کہ دن کا کتنا حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر دوں ؟ تو نبی کریم (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جس قدر چاہو، مقرر کر لو۔ حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا کہ دن رات کا چوتھائی حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر لوں ؟ تو سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم جس قدر چاہو مقرر کر لو۔ اگر تم چوتھائی سے زیادہ حصہ مقرر کر لو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا کہ میں دن رات کا نصف حصہ درود خوانی کے لئے مقرر کر لوں ؟ تو حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جتنا چاہو مقرر کر لو اور اگر تم اس سے بھی زیادہ وقت مقرر کر لو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ تو حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے کہا کہ دن رات کا دو تہائی وقت مقرر کر لوں ؟ تو حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم جتنا چاہو وقت مقرر کر لو اور اگر تم اس سے زیادہ وقت مقرر کرو گے تو تمہارے لئے بہتر ہی ہو گا۔ تو حضرت ابی (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے عرض کیا، “میں دن رات کا کُل حصہ درود خوانی ہی میں خرچ کروں گا۔“ تو سرکار (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر ایسا کرو گے تو درود شریف تمہاری تمام فکروں اور غموں کو دور کرنے کے لئے کافی ہو جائے گا اور تمہارے تمام گناہوں کیلئے کفارہ ہو جائے گا۔
No comments:
Post a Comment