Saturday, November 20, 2010

قبر کا بھیانک منظر

قبر کا بھیانک منظر
حضرت سیدنا شیخ ابو بکر شبلی جو سرکار غوث اعظم کے مشائخ میں سے ہیں۔ فرماتے ہیں، میں نے اپنے ایک پڑوسی کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا، مافعل اللہ بک ؟ یعنی اللہ عزوجل نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟ کہنے لگا، عالی جاہ ! نہایت ہی خوفناک حالات سے دوچار ہوا۔ خصوصاً منکر نکیر کے سوالات کے جوابات کے وقت میں گھبرا گیا اور مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ کیا میرا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا ؟ اتنے میں ایک آواز گونج اٹھی، “دنیا میں زبان کا صحیح استعمال نہ کرنے کے سبب تجھ پر یہ مصیبت نازل ہو ہی ہے۔“
اب فرشتے مجھے عذاب دینے کے لئے بڑھے۔ اتنے میں ایک بزرگ جو معطر معطر اور حسن و جمال کا پیکر تھے میرے اور فرشتگان عذاب کے درمیان حائل ہو گئے انہوں نے نکیرین کے سوالات کے جوابات دینے میں میری مدد کی اور میں عذاب سے بچ گیا میں نے اپنے محسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے عرض کیا، اللہ عزوجل آپ پر رحم و کرم فرمائے آپ کون ہیں ؟ فرمایا، میں تیری کثرت درود کی برکت سے پیدا ہوا ہوں۔ مجھے قبر و حشر کے ہر مشکل مقام پر تیری مدد کرنے پر مامور کیا گیا ہے۔
(جذب القلوب ص 266)
(القول البدیع ص 121۔ سعادۃ الدارین ص 120)

No comments:

Post a Comment