درود پاک پڑھنے کے آداب
درود پاک پڑھنے والے کو چاہئیے کہ بادب ہوکر درود پاک پڑھے تاکہ دونوں جہانوں کی کامیابی اور سعادت حاصل ہو۔
ذیل میں چند آداب تحریر کئے جاتے ہیں۔
1۔ جسم پاک ہو، ظاہری نجاست اور بدبودار چیز سے جسم ملوث نہ ہو۔
2۔ لباس صاف ستھرا اور پاک ہو۔
3۔ مکان یا جس جگہ پر درود پاک پڑھا جائے، وہ پاک ہو۔
4۔ باوُضو درود پاک پڑھا جائے۔
5۔ درود پاک پڑھنے والا خوشبو لگائے یا اگربتی وغیرہ سلگائے۔
6۔ قبلہ رُو ہو کر دوزانو بیٹھ کر درود پاک پڑھے۔
7۔ درود پاک کے معانی سمجھ کر پڑھے۔
8۔ اخلاص یعنی اللہ عزوجل کے حکم کی تعمیل اور رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور عظمت کی نیت سے پڑھے۔ باقی دین و دنیا کے تمام کام اللہ عزوجل کے سُپرد کرے۔
9۔ درود پاک پڑھتے وقت دنیا کی باتیں نہ کریں۔ سنت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیروی اور شریعت مطاہرہ کی پابندی رکھے منہیات سے بچے۔ حرام اور مشتبہ کھانے سے پرہیز کرے۔
10۔ درود شریف پڑھتے وقت یہ تصور کرے کہ شاہ کونین، امت کے والی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میرا درود شریف سُن رہے ہیں۔ اس لئے بعض بزرگان دین نے فرمایا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو (اللہ تعالٰی کی عطا سے) حاضر و ناظر جان کر دورد پاک پڑھے۔
11۔ جب کبھی سیدالمرسلین، رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام پاک سنے تو درود پاک پڑھے۔ کم از کم اتنا کہہ لے صلی اللہ علیہ وسلم اور محبت سے انگوٹھوں کے ناخنوں کو بوسہ دے کر آنکھوں پر لگائے۔ اگرچہ یہ فرض و واجب نہیں لیکن باعث صد برکات ہے۔ اصل میں یہ محبت کا سودا ہے۔ جس کے دل میں رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہوگی، وہ اس فعل سے انکار نہیں کرے گا اور اگر کسی کا دل محبت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے خالی ہو تو اس کا کیا علاج ؟
12۔ جب درود پاک کا وظیفہ پڑھ کر فارغ ہو تو اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرے۔ کم از کم اتنا کہہ لے وسلام علی المرسلین والحمدللہ رب العلمین ط
13۔ درود پاک باہر مجبوی لیٹ کر بھی پڑھا جا سکتا ہے لیکن اس حالت میں ٹانگیں سمیٹ لینی چاہئیے۔
14۔ جہاں کہیں رحمت دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی آئے تو لفظ “سیدنا“ کا اضافہ کرے۔ اگرچہ کتاب میں لکھا ہوا نہ ہو۔
ایک مرتبہ ایک تُرکی نوجوان حضرت شیخ الدلائل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور “دلائل الخیرات“ پڑھنے لگا۔ جہاں کہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا نام پاک آتا، وہ سیدنا نہیں کہتا تھا۔
حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا۔ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے نام مبارک کے ساتھ سیدنا بھی کہہ ! اس نے کہا کہ جب کتاب میں سیدنا نہیں لکھا تو میں کیوں کہوں۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے ہر طرح سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔ رات جب وہ ترکی مرد سو گیا تو دیکھا کہ عالم رؤیاء میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے اور اس کے پیٹ پر خنجر رکھ دیا اور پوچھا۔ “بتا تو سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اسم پاک کے ساتھ “سیدنا“ کہے گا یا نہیں۔ ؟
وہ تو سیدالعالمین ہیں تو کس گنتی میں ہے۔ (وہ تو جنوں کے بھی سردار ہیں، انسانوں کے بھی، وہ خاکیوں کے بھی سردار ہیں تو نوریوں کے بھی)
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
No comments:
Post a Comment