Saturday, November 20, 2010

بارگاہ خداوندی سے دورد و سلام پڑھنے کا حکم

بارگاہ خداوندی سے دورد و سلام پڑھنے کا حکم

درود و سلام ایسا محبوب ترین وظیفہ ہے کہ خود خداوند قدوس اور اس کے فرشتے حبیب پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ ارشاد ربّانی ہے۔ ان اللہ وملٰئکۃ یصلون علی النبی اور پھر اللہ تعالٰی نے اس درود و سلام کے ورد کا حکم اپنے بندوں کو بھی فرمایا۔ قرآن ناطق ہے۔ یا ایھا الذین اٰمنو صلوا علیہ وسلموا تسلیما سعادۃ دارین میں ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کی مبارک پسلی سے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا فرمایا۔ آدم علیہ السلام نے دیکھا۔ چونکہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم اطہر میں شہوت پیدا فرما دی تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ یااللہ میرا اس کے ساتھ نکاح کردے۔ ارشاد باری ہوا اس کا مہر ادا کرو۔ عرض کیا مولٰی اس کا مہر کیا ہے۔ فرمایا جو عرش پر نامِ نامی لکھا ہوا اس نام والے میرے حبیب پر دس بار درود پاک پڑھو۔ عرض کی یااللہ۔ اگر درود شریف پڑھوں تو حوّا کے ساتھ میرا نکاح کر دےگا۔ فرمایا ہاں۔ تو حضرت آدم علیہ السلام نے درود پاک پڑھا اور اللہ تعالٰی نے ان کا حضرت حّوا علیہا السلام کے ہمراہ نکاح کر دیا۔

حضرت امام ابی القاسم القشیری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے رسالہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے تجھ میں دس ہزار کان پیدا فرمائے یہاں تک کہ تو نے میرا کلام سنا اور دس ہزار زبانیں پیدا فرمائیں جس کے سبب تو نے مجھ سے کلام کیا۔ تو مجھے سب سے زیادہ محبوب اور نزدیک ترین اس وقت ہوگا جب تو محمد عربی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود شریف بھیجے گا۔

No comments:

Post a Comment